خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 28
خطبات طاہر جلد ۸ 28 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء علیحدگی کی تکلیف کم ہوا کرتی ہے۔چنانچہ عام انسان اپنے روز مرہ کے تجربے میں بعض جدائیوں کو برداشت نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کا تبتل الی اللہ نہیں ہوتا۔بعض مائیں اپنے بچوں کی موت کے صدمے سے مرجاتی ہیں اور واقعہ ایسا ہوتا ہے۔ابھی آج ہی کی ڈاک میں میں نے ایک خط دیکھا جس میں بتایا گیا کہ ایک احمدی ماں کا بچہ جوان فوت ہو گیا حادثے میں اس کے چند دن کے بعد وہ صدمے سے چل بسی حالانکہ اور کوئی بیماری نہیں تھی۔تبتل حقیقت میں اس چیز کا نام ہے کہ باقی چیزوں سے تعلق موجود ہوتے ہوئے بھی وہ تعلق اتنا واجبی سا رہ جائے کہ ان معنوں میں واجبی کہ اگر وہ الگ ہو جائے تو کوئی نقصان محسوس نہ ہو اور نقصان نہ ہو۔نقصان محسوس نہ ہو اور بات ہے کسی قسم کا نقصان نہ ہو یہ وہ مضمون ہے جو زیادہ باریک ہے جس کو سمجھانے کے لئے تھوڑا سا وقت میں اور لگاؤں گا۔ہر شخص کو اپنے پیارے کی جدائی کا نقصان محسوس ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے بچے ابراہیم کوقبر کی لحد میں اُتار رہے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور اپنے پیاروں کی جدائی کا غم محسوس کیا کرتے تھے۔شہداء کی جدائی جن کے متعلق خدا نے خبر دی تھی واضح طور کہ وہ زندہ ہیں اور جنت میں ہیں ان کی جدائی کا بھی آپ غم محسوس کیا کرتے تھے۔پس تبتل الی اللہ سے مراد یہ نہیں ہے جیسا کہ میں نے غناء کے مضمون میں سمجھایا کہ نقصان کا احساس نہ ہولیکن اپنے وجود کو اپنے روحانی وجود کو، وہ جدائی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔چنانچہ یہ جو سلسلہ ہے نقصان کے نہ ہونے کا اس کو پھوڑے والی مثال میں الٹا کے آپ دیکھیں تو پھر زیادہ سمجھ آ جائے گی۔جب زخم کی جلد ا لگ ہوتی ہے صحت مند جلد سے تو ایک کمی تو آتی ہے اور کچھ دیر کے لئے اس جگہ جہاں سے وہ زخم کا چھلکا الگ ہوا ہے احساس رہتا ہے کچے پن کا۔ایک کمی کا احساس موجود ہوتا ہے لیکن حقیقت میں نقصان نہیں ہوتا۔پس اس لئے اس کو سمجھانے کی خاطر میں نے نقصان کے احساس اور نقصان میں فرق کرنے کی کوشش کی ہے، فرق دکھانے کی کوشش کی ہے کہ جلد جس کے اوپر سے زخم کا چھلکا اُتر رہا ہے وہ اس کی جدائی کو محسوس ضرور کرتی ہے لیکن فی الواقعہ اس کا نقصان کوئی نہیں ہے۔پس تبتل جب کامل ہو تو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح وہ تل انسان کے روحانی وجود کو کسی جدائی پر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ الی اللہ ہے۔ایک طرف سے ایک چیز چھٹی تو دوسری طرف سے