خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 313
خطبات طاہر جلد ۸ 313 خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۸۹ء کرنے سے بہتر اور کونسی ضمانت ہو سکتی ہے لیکن غالب چونکہ قادر الکلام تھا اس لئے اس گستاخی کے حملے سے بچنے کے لئے اس نے اپنے لئے بہانے اکٹھے کئے ہوئے تھے۔وہ کہتا ہے کہ وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے اگر وہ مومن ہو تو اس کو تو خدا کے سپر د آدمی کر دے جو خدا سے ہی منکر ہے اس کو کس طرح خدا کے سپر د کرو گے۔تو ہمارے دشمنوں کے اوپر تو اسی سلسلے کا اطلاق ہورہا ہے کہ وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے کیونکہ ساری دشمنیاں سیاسی ہیں اور دنیا کی اغراض کی خاطر ہیں۔خدا کی محبت میں نہیں ہیں اور خدا کے خوف سے نہیں ہیں اس لئے آپ ان کو کس خدا کے سپر د کریں گے، کس خدا کا خوف دلائیں گے۔یہ وہ حالات ہیں جماعت احمدیہ پر، جماعت احمد یہ عالمگیر پر جن میں سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اور ان کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کرتے ہوئے ، سمجھتے ہوئے ہم کو دفاعی کا روائی کرنی ہے۔جہاں تک دفاعی کارروائی کا تعلق ہے اس کی تفاصیل ہیں تو اس میں میں نہیں جاسکوں گا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا کے دور کے کونے میں بھی احمدیت کے خلاف ایک پتا بھی کھڑ کے تو میں اس کی آواز سنتا ہوں اور جس حد تک خدا نے مجھے طاقت عطا فرمائی ہے بڑی بیداری کے ساتھ فوری طور پر اس کی جوابی کارروائی کی کوشش کرتا ہوں اور جماعت میں جس حصے کے ساتھ بھی اس جوابی کارروائی کا تعلق ہوتا ہے میرا تجربہ ہے کہ جب بھی میں ان کو آواز پہنچا تا ہوں وہ ہمیشہ لبیک کہتے ہیں اور بڑی وفاداری کے ساتھ ، بڑے خلوص کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور کبھی بھی انہوں نے اس بارے میں کو تا ہی نہیں کی اس لئے ہم اپنے لائحہ عمل سے غافل نہیں ہیں، ہم دشمن کے حالات پر بھی گہری نظر رکھ رہے ہیں اور دشمن کی چالوں سے بھی خوب اچھی طرح باخبر ہیں اور اس کے مقابل پر ان کی چالوں کو ناکام بنانے کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کر رہے ہیں لیکن بعض تدبیریں جو ہم نے اختیار کیں تجربے نے بتایا کہ ان کا کوئی اثر نہیں ہے اس لئے ان تدبیروں کے رُخ بدلنے پڑے۔بار ہا آپ نے دیکھا ہوگا کبھی اس بات پر زور دیا جاتا ہے کبھی دوسری بات پر زور دیا جاتا ہے۔اس ضمن میں ایک بات میں اس وقت آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں کہ ہم نے اس سے