خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 312
خطبات طاہر جلد ۸ 312 خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۸۹ء ہے۔آپ یہ سن کے حیران ہوں گے کہ وہاں ہر سال بعض اطلاعوں کے مطابق لاکھوں مسلمان عیسائی ہو رہے ہیں اور کسی ملاں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔کوئی اس کو فکر نہیں ہوتی لیکن اگر چند ہزار احمدی ہو جائیں تو آگ لگ جاتی ہے، سارے ملک میں اشتعال پیدا ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں، یہ وہی تنظیمیں ہیں جو سعودی عرب سے پیسہ کھا رہی ہیں اور سعودی عرب اور پاکستان کے اثرات کے تابع وہ جماعت احمدیہ کو بے بس اور بے کار کر دینا چاہتی ہیں اور یہ تضاد اتنا نمایاں ہے وہ جماعت جو عیسائیت کا مقابلہ کر سکتی ہے اس کو تو آپ باندھ کے رکھ دیں اور جو اسلام پر حملہ کرنے والے ہیں اور کثرت کے ساتھ آپ کا دین بدل رہے ہیں ان کے ساتھ دوستیوں کی، تعلقات کی پینگیں بڑھائی جائیں۔چند سال ہوئے جب میں نے انڈو نیشیا جانے کی خواہش کا اظہار کیا تو وہاں کی حکومت نے کہا کہ آپ یہاں کے لوگوں کو منظور نہیں ہیں۔اس لئے کہ مذہبی جذبات کی اس سے انگیخت ہوگی اور جب تک پاکستان کی حکومت ہمیں یہ درخواست نہ کرے کہ آپ کو آنے کی اجازت ہے اس وقت تک ہم حکومتی سطح پر آپ کو اجازت نہیں دے سکتے لیکن عیسائی بڑے بڑے ممالک کے سربراہ وہاں جاتے ہیں اور سرخ قالین ان کے رستوں میں بچھائے جاتے ہیں، ہر قسم کی خاطر و مدارات کی جاتی ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان کے نفوذ کے بڑھنے سے عیسائیت کا نفوذ بڑھتا ہے تو دراصل مذہبی معاملات نہیں ہیں۔یہ سیاست کی کھیلیں ہیں اور بے دین سیاست کی کھیلیں ہیں۔اس لحاظ سے آپ ان لوگوں کو جو آپ کے دشمن ہیں خدا کا خوف بھی نہیں دلا سکتے۔خدا کا خوف کس کو دلائیں گے؟ ان لوگوں کو تو خدا کا خوف دلا سکتے ہیں جو خدا کے نام پر ، خدا کی محبت کی وجہ سے آپ سے دشمنی کر رہے ہیں۔غالب نے کہا ہے کہ قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالب وہ کافر جو خدا کو بھی نہ سونپا جائے ہے مجھ سے (دیوان غالب صفحه: ۳۱۵) کہتا ہے کیسی مصیبت میں میں مبتلا ہو گیا کہ میرا محبوب میرے رقیب کا ہم سفر ہو گیا ہے حالانکہ مجھے تو اتنا بھی اعتماد نہیں کہ اس کا فر کو خدا کے سپر د کر دوں۔بظاہر یہ گستاخی ہے کہ خدا کے سپرد