خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 311 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 311

خطبات طاہر جلد ۸ 311 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء دراصل وہ مذہبی طور پر عیسائیت سے نہیں ہے وہ ایک سیاسی رقابت ہے۔کیونکہ یہ وہ قومیں ہیں جو تیسری دنیا میں عیسائیت کو اپنے سیاسی نفوذ بڑھانے کے لئے استعمال کرتی ہیں اور زیادہ تر وہیں ہماری کوششوں پر پابندیاں ہیں۔جرمنی میں کوئی پابندی نہیں ہے جو بھاری تعداد اکثریت کے لحاظ سے عیسائی ملک ہے اتنا قوی عیسائی ملک ہے، اتنا قانون کے لحاظ سے، اتنا کڑا عیسائی ملک ہے کہ آج تک یہاں اسلام کو ایک مذہب کے طور پر تسلیم ہی نہیں کیا گیا جبکہ یورپ کے دوسرے ممالک میں اسلام ایک مذہب کے طور پر تصدیق شدہ حقیقت ہے۔سپین میں بھی مسلمان مساجد کو یہ حق حاصل ہے حالانکہ وہاں ایک لمبا عرصہ مسلمانوں کی سپین کے باشندوں سے رقابت رہی ہے مگر باوجود اس کے آج بھی مساجد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نکاح کا اعلان کرسکیں اور اسے درست مذہبی نکاح تسلیم کیا جاتا ہے۔اسی طرح دیگر ممالک میں مثلاً ڈنمارک ہے وہاں گنتی کے چند مسلمان ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں مساجد کو با قاعدہ یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ نکاح کا اعلان کریں اور اسے با قاعدہ مذہبی نکاح تسلیم کیا جاتا ہے۔خواہ قانونی طور پر رجسٹریشن بھی ضروری ہو۔یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن مغربی جرمنی اتنا کٹر عیسائی ہے قانون کے اعتبار سے کہ یہاں کسی مسلمان مسجد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ نکاح کا اعلان کرے اور اس اعلان کی مذہبی حیثیت حکومت تسلیم کر لے لیکن اس کے باوجود آپ کو تبلیغ کی اجازت ہے۔ایسی آزادی ہے جس کا سوواں حصہ بھی آپ کو پاکستان میں نصیب نہیں۔اسی طرح دیگر عیسائی ممالک ہیں خواہ وہ کٹر عیسائی ہوں یا نسبتا کم کٹر عیسائی ہوں آپ کو کھلی اجازت ہے لیکن ہر اس ملک میں جہاں عیسائیت کے سیاسی مفادات ہیں وہاں آپ کی زمین تنگ کی جارہی ہے اور وہاں حکومتی سطح پر شدت کے ساتھ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ احمدیت پر اتنی پابندیاں لگا دی جائیں جیسے پاکستان میں لگائی گئیں کہ یہ بالکل مجبور اور بے کس ہو کر اس طرح ان ملکوں میں ہو جا ئیں جیسے اسیر ہوتا ہے، آزادی کے باوجود وہ قیدی بھی ہوتا ہے، اپنی مرضی کے ساتھ ، اپنی زندگی کی دلچسپیوں میں حصہ نہیں لے سکتا۔احمدیت کی زندگی کی دلچسپیاں تو ہیں ہی خدا اور خدائے واحد کا پیغام پہنچانا اور حضرت محمد مصطفی عمل اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے۔پس اگر یہاں ہمارے اوپر اس نوع کی پابندیاں عائد ہو جائیں تو اس کا جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان ممالک کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے جو عیسائیت کے نفوذ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انڈونیشیا میں ایسا ہو چکا