خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 305
خطبات طاہر جلد ۸ 305 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء کہ ان کے ملک کو سعودی نفوذ غیر مستحکم کر رہا ہے۔پس سعودی نفوذ کی خاطر کوئی ایک ان کو ایسا مظلوم نشانہ چاہئے تھا جس کے اوپر حملے کرتے چلے جائیں اور عوام الناس مسلمان پر یہ اثر ڈالیں کہ یہ اسلام کی سب سے دشمن جماعت ہے اسے ہم نے جب نشانہ بنایا ہے تو گویا ہم اسلام کے بچے ہمدرد اور خیر خواہ اور اسلام کی حمایت کرنے والے اور پشت پناہی کرنے والے ہیں۔اس طریق پر ان ممالک کے علماء کو پتا بھی نہیں لگا کہ ہم کن ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے؟ چنانچہ آپ انڈونیشیا میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کی تاریخ کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔پاکستان کے متعلق تو آپ واقف ہی ہیں۔وہاں ہر اینٹی احمد یہ فساد کے لئے سعودی عرب استعمال ہوا ہے، سعودی عرب کا روپیہ استعمال ہوا ہے۔ملائیشیاء میں آپ ان حالات کا جائزہ لے کر دیکھ لیجئے وہاں بھی بعینہ یہی شکل اُبھری ہے اور بنگلہ دیش میں بھی بعینہ یہی شکل اُبھری ہے اور مزید کوششیں مسلسل جاری ہیں۔پس جہاں بھی جماعت احمدیہ کے خلاف منافرت پھیلائی جاتی ہے اور کثرت سے پیسہ استعمال کیا جاتا ہے وہاں سعودی عرب کا ہاتھ آپ کو دکھائی دے گا۔اور جب ایک دفعہ اسلام کے چمپیئن کے طور پر یہ ایک ملک میں نفوذ شروع کر دیتے ہیں تو پھر حکومتوں کو اس طرح مجبور کر دیتے ہیں اپنے ساتھ تعاون پر کہ ملین بعض دفعہ بلین ڈالر ان کو دیتے ہیں کہ یہ ہم تمہارے ملک میں اسلام کی ترقی کی خاطر خرچ کرنا چاہتے ہیں۔بڑی بڑی شاندار مساجد بناؤ، بڑی بڑی یونیورسٹیاں بناؤ، بڑے بڑے مدارس قائم کرو اور ان کا سارا خرچ ہم برداشت کرتے ہیں۔ڈالرز میں تم ہم سے یہ رقم لے لو اور اپنی کرنسی میں جو بھی مقامی کرنسی ہے خرچ کرو ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی پرواہ نہیں ہے۔چنانچہ تیسری دنیا کے ممالک جو غریب ہیں اور بہت حد تک ڈالر کے محتاج ہیں ان کو اس سے بہتر اور کیا سود انظر آ سکتا ہے کہ ان کو ڈالر ملیں اور ان ڈالرز کے ذریعے اپنی کرنسی خرچ کر کے، ڈالرز کو اپنی بیرونی خرید و فروخت کے لئے استعمال کریں اور اپنی کرنسی خرچ کر کے مساجد اور مدارس بنوائیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔چنانچہ گزشتہ تقریباً بیس سال سے یا شاید بعض جگہ اس سے بھی زائد عرصہ سے مسلسل یہی کام ہے جو مختلف ممالک میں ہو رہا ہے اور سعودی نفوذ اور احمدیت کی دشمنی ایک ہی چیز کے دو نام بنے ہوئے ہیں۔اب جہاں جہاں یہ سعودی نفوذ پھیلتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا جو بھی آواز وہاں بلند ہوتی ہے یہی سمجھا جاتا ہے کہ مکے اور مدینے کے میناروں سے آواز بلند ہورہی ہے۔