خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 302
خطبات طاہر جلد ۸ 302 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء باشندے یقیناً تعجب اور حیرت کے ساتھ دیکھتے کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام کا قلعہ وہ عظیم الشان ملک جس کو خدا نے آغاز ہی سے اسلام کی خدمت کے لئے چنا تھا۔اس کا تمام تر انحصار اس کی دوستیاں ، اس کے تعلقات ،اس کے روابط سب اسلام دشمن طاقتوں سے ہیں۔اس صورتحال کا ایک ہی حل ممکن تھا کہ سعودی عرب کے مسلمان ہونے کی تصویر کو نمایاں کر کے مسلمان ممالک کے سامنے پیش کیا جائے اور غیر معمولی طور پر اسے اسلام کا نمائندہ ، اسلام کا حمایتی، اسلام کا پشت پناہی کرنے والا ملک بنا کر دکھایا جائے۔چنانچہ رابطہ عالم اسلامی کو تشکیل دیا گیا اور اس تشکیل میں بہت بڑی بڑی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔رابطہ عالم اسلامی کے ذریعے سعودی عرب کی معرفت غریب مسلمان ممالک کو بہت سی دولتیں تقسیم کی گئیں اور صرف یہی نہیں تھا بلکہ ایسی حیرت انگیز چالا کی اور ہوشیاری کے ساتھ یہ منصوبہ بنایا گیا کہ اس کے نتیجے میں محض دولت ہی دوسرے ملکوں تک نہ پہنچے بلکہ سعودیہ کا مذہبی رسوخ بھی ان تک پہنچے۔یعنی ایک تو اگر ویسے ہی کوئی ملک کسی کو دولت دے تو اس کے لئے دل میں نرم گوشے پیدا ہو ہی جایا کرتے ہیں لیکن صرف یہی نہیں کیا گیا بلکہ دولت کو اس طریق پر ان ملکوں میں استعمال کیا گیا کہ جس کے نتیجے میں سعودی فرقے یعنی وہابیت کو بھی فروغ نصیب ہو۔چنانچہ اس سعودی روپے کے ذریعے ان غریب ممالک میں بھی جہاں شدید اقتصادی بحران تھے، جہاں انڈسٹری یعنی کارخانوں کا کلی فقدان تھا اور ملک اپنی بقاء کے لئے ترقی یافتہ مغربی ممالک پر انحصار کرتے تھے ان کو بھی سعودی روپیہ ان کی انڈسٹری کو تقویت دینے کے لئے نہیں دیا گیا بلکہ ان کے ہاں مسجد میں بنانے اور مدارس بنانے پر استعمال ہوا۔اس سے سعودی حکومت کے پشت پناہوں کو دوہرا فائدہ نصیب ہوا۔اوّل یہ کہ اگر یہ روپیہ جو بے انتہاء ہے۔آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے عام حالات میں کہ سعودی دولت کتنی بڑی ہے۔اگر یہ روپیہ یا اس کا بہت معمولی حصہ بھی تیسری دنیا کے غریب ممالک کو اقتصادی طور پر مغربی چنگل سے چھڑانے پر استعمال کیا جاتا تو بلاشبہ سعودی عرب کو ایک غیر معمولی ہر دلعزیزی تو نصیب ہوتی لیکن سعودی عرب کے دوستوں کے مفاد کے یہ بات خلاف تھی اور ان کو شدید نقصان پہنچتا کیونکہ آج کی دنیا میں ترقی یافتہ قو میں حکومتیں بھی کرتی ہیں تو اقتصادی مقاصد کے لئے محض حکومت کے شوق میں نہیں کرتیں۔تمام دنیا کی سیاست اقتصادیات کے ساتھ اس طرح باہم اُلجھ چکی ہے کہ سیاست اور اقتصادیات گویا ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں۔پس سعودی عرب نے غریب ممالک کو خصوصاً