خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد ۸ 301 خطبه جمعه ۱۲ارمئی ۱۹۸۹ء کے مقدس میناروں سے سنائی دے رہی ہے۔پس سب سے زیادہ نفوذ اگر کوئی ملک اسلامی دنیا میں کر سکتا ہے تو وہ سعودی عرب ہے۔اس سے پہلے بھی سعودی عرب کو یہ عظمت کا مقام حاصل ہونا چاہئے تھا لیکن اس لئے نصیب نہیں ہوا کہ وہ ایک غریب ملک تھا جو خو دلوگوں کی امداد پر پل رہا تھا اور ایک بہت لمبا عرصہ تک انگریزی حکومت نے اس ملک کو سہارا دیا۔ان کی سیاست کے نقوش بنائے، ان کی بیرونی یعنی خارجہ پالیسی کو تشکیل کیا اور انگریز کی امداد ہی پر اس ملک کا نظم ونسق چلتا رہا۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے آج دنیا کا ہر مؤرخ تسلیم کر چکا ہے کسی کو اس سے انکار نہیں۔ایک لمبا عرصہ تک موجودہ سعودی خاندان کو اپنی حکومت کے بقاء کے لئے کلیہ انگریز پر منحصر رہنا پڑا اور با قاعدہ وہ معاہدے جواب چھپ کر عوام کے سامنے آچکے ہیں ان میں یہ باتیں تفصیل سے لکھی ہوئی ہیں، وہ شرائط مذکور ہیں جن کے نتیجے میں یہ کبھی بھی اپنی خارجہ پالیسی میں آزاد نہیں ہوسکتا تھا۔اس کے بعد پھر ایک ایسا وقت آیا جب کہ اس ملک میں تیل کی دولت نکل آئی اور تیل کی دولت نے اس کو ایک قسم کا ایک آزادی کا مقام عطا کیا۔اقتصادی طور پر اب یہ کسی دوسرے ملک کا مرہون منت نہیں رہا اور تیل کی دولت اتنی تھی کہ اس ملک کے لئے ناممکن تھا کہ اس دولت کو خود سنبھال سکے۔چنانچہ مجبوراً امریکہ کی طرف رجوع کرنا پڑا اور تقریباً تمام تر دولت امریکہ کے بنکوں کے سپرد کر دی گئی۔چونکہ اس خاندان کو اپنی سیاسی بقاء کے لئے بھی اس غیر معمولی دولت کی وجہ سے غیر معمولی خطرات در پیش ہوئے اس لئے ان کے لئے لازم تھا کہ اپنی بقاء کی خاطر بھی کسی غیر ملک کی طرف رجوع کریں اور ان کا سہارالیں۔پس جس کے پاس کسی کے پیسے ہوں اسی کی طرف رجوع کیا کرتا ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اپنی امانت کسی اور کے پاس رکھوائی ہو اور دوستیوں کی پینگیں کسی اور سے بڑھائی جائیں۔پس یہ دو باتیں ایک مقام پر اکٹھی ہو گئیں اور دن بدن سعودی عرب کا انحصار امریکہ پر زیادہ سے زیادہ ہوتا چلا گیا۔اسی طرح ان مغربی قوموں پر جن کے پاس ان کی دولت کا کچھ حصہ تھا یا جن سے تعلقات کے نتیجے میں ان کو فوجی امداد اور حمایت حاصل ہونے کی توقع تھی ان کے تعلقات بڑھنے شروع ہوئے۔پس ایک طرف یہ صورتحال تھی کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مرکزی ملک اور سب سے بڑا قابل احترام ملک ان لوگوں کی طرف دوستیوں کے ہاتھ بڑھاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا جن کی اسلام دشمنیاں تاریخی طور پر ثابت ہیں اور ایک بڑا بھاری تضاد دکھائی دینے لگا تھا جس کو مسلمان ممالک کے