خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد ۸ 300 خطبه جمعه ۲ ارمئی ۱۹۸۹ء جو عالمگیر سطح پر قوموں کے تعلقات بگاڑنے اور دنیا کے امن خراب کرنے کی ذمہ دار ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے جماعت احمد یہ تو صرف پاکستان کے اندرونی دشمنوں سے واسطہ ہی نہیں اور محض ان علماء تک بات نہیں ٹھہرتی جنہوں نے گویا قسمیں کھا رکھی ہیں کہ ہر صورت میں، ہر قیمت پر جماعت احمدیہ کی مخالفت کریں گے بلکہ ان علماء کو آج سیاستدانوں کی ایسی پشت پناہی حاصل ہے جیسے اس گزشتہ ایک سو سال میں پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔نہ صرف یہ کہ ان کو اندرونی طور پر سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ یہ ایک نیا مضمون پاکستان کے سیاست کے افق پر ابھرا ہے کہ وہ لوگ جو صاحب حکومت ہیں ان کی حمایت بھی ملاں کو حاصل ہے اور وہ لوگ جو حکومت پر قابض لوگوں کے مخالف ہیں ان کی پشت پناہی اور حمایت بھی ملاں کو حاصل ہے اور صرف اندرونی سیاستدان ہی کی نہیں بلکہ بیرونی سیاستدانوں کی بھی۔اندرونی طاقت کی ہی نہیں بلکہ عظیم الشان بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی بھی بالواسطہ ملاں کو نصیب ہے۔اس سلسلے میں میں کوشش کروں گا کہ بات کو اس طرح وضاحت کے ساتھ آپ کے سامنے رکھوں کہ آسانی سے ہر ذہن کو خواہ اس کا علمی معیار کیسا ہی کیوں نہ ہو بات سمجھ آجائے۔مرکزی نقطہ اس مسئلے کا سعودی عرب ہے۔سعودی عرب کو آج کی دنیا میں ایک غیر معمولی سیاسی مقام نصیب ہوا ہے جو اس سے پہلے کسی اسلامی ملک کو اس طرح مرکزی حیثیت سے نصیب نہیں ہوا تھا۔سعودی عرب کو تمام مغربی طاقتوں کی مکمل حمایت اور پشت پناہی نصیب ہے۔اس سے پہلے مسلمان ممالک کا یہ حال ہوا کرتا تھا کہ کچھ بیرونی طاقتیں ان کی دوست ہوا کرتی تھیں اور کچھ دشمن ہوا کرتی تھیں۔کچھ مغربی طاقتیں ان کی دوست ہوا کرتی تھیں اور کچھ مغربی طاقتیں ان کی دشمن ہوا کرتی تھیں لیکن اس وقت سعودی عرب کو ایک غیر معمولی مقام حاصل ہے جو مشرق اور مغرب کی آپس کی رقابت کے نتیجے میں ہے۔وہ تمام مغربی طاقتیں جو مسلمان ممالک میں نفوذ چاہتی ہیں ان کی کوشش یہ ہے کہ تمام مسلمان ممالک میں سعودی عرب کا نفوذ پھیلے اور جہاں تک مسلمان ممالک کا تعلق ہے خواہ وہ کلیہ مسلمان ہوں یا بعض ممالک میں مسلمانوں کی بھاری تعداد موجود ہوان کو جو آواز بھی مکے اور مدینے کے میناروں کی سنائی دیتی ہے۔وہ اپنے خلوص میں، اپنے ایمان میں، اپنے دین سے محبت کے نتیجے میں یہی سمجھتے ہیں کہ یہ خدا اور محمد مصطفی ﷺ کی آواز ہے جو ان مقدس مقامات