خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد ۸ 292 خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۸۹ء ہے۔اخلاق کی خاطر اور تہذیب کی خاطر مصافحے تو میں کرتا ہوں لیکن واپس جا کر میں اس ہاتھ سے کھانا نہیں کھا سکتا جب تک اسے اچھی طرح صاف نہ کرلوں۔تو یہ ہے مقام محمد مصطفی ﷺ۔آپ نے ہمیں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سکھائی ہیں، آپ نے ہمیں عظیم الشان تہذیب عطا کی ہے۔یہ جاہل اور بیوقوف اور سفلی لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اگر ان باتوں پر ہنستے ہیں تو ان کو ہنسنے دو۔آپ امین بنائے گئے ہیں اور یہ ہے امانت کا مقام کہ کوئی شخص آپ سے خوف نہیں کھائے گا کیونکہ اس کی عزت آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہوگی ، اس کی شرافت آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، اس کا نام آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، اس کی ملکیت آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہے، اس کے بچے ، اس کی بیٹیاں، اس کی بیوی، اس کے اور عزیز سارے آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں، اس کی ملکیتیں ہر قسم کی آپ کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔کوئی خطرہ آپ کی طرف سے نہیں ہے۔یہاں تک کہ ہاتھ سے ہاتھ جب ملاتا ہے تب بھی وہ جانتا ہے کہ محمد مصطفی " کے غلام کے صاف ہاتھوں سے ہاتھ میں ملا رہا ہوں مجھے اس سے بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔یہ ہے وہ پیغام جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری حج کے خطبہ میں دیا تھا اور اس پیغام کو حجتہ الوداع کے خطبہ کے طور پر ہم تمام دنیا کے مسلمان خوب جانتے ہیں لیکن اس حد تک جانتے ہیں کہ ان کو علم ہے ایک پیغام تھا۔اس حد تک نہیں جانتے کہ اس پیغام کا مقصد یہ تھا کہ یہ پیغام ہماری زندگیوں میں داخل ہو جائے ، ہمارے خون میں دوڑنے لگے، ہمارے رگ و پے میں سرائیت کر جائے۔اس پہلو سے بدقسمتی سے آج مسلمان بالکل غافل ہوا پڑا ہے۔آپ نے اس قدر رکو دوبارہ زندہ کرنا ہے، آپ نے اس پیغام کی اہمیت کو اپنی زبان سے نہیں اپنے اعمال سے دنیا کو پہنچانا ہے اور محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو بھی دوبارہ اس پیغام کی طرف واپس لے کے آنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو اس صدی کا جو آپ کے سامنے پھیلی پڑی ہے سب سے زیادہ اہم کام ہے اس لئے میں حجتہ الوداع کے خطبے میں سے چند اقتباسات آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور ان سے آپ سمجھیں گے که در حقیقت سچائی کیا ہوتی ہے، امانت کیا ہوتی ہے اور اسلام کس کا نام ہے؟ اور آنحضور علی بنی نوع انسان سے جدا ہونے سے پہلے اپنے رفیق اعلیٰ کی طرف لوٹنے سے پہلے جو آخری نصیحت ہمیں کر گئے ہیں اس نصیحت کا احترام جتنا بھی ممکن ہے تصور میں اتنا کرنا ہر عاشق محمد مصطفی ﷺ کا