خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۸ 279 خطبه جمعه ۲۸ / اپریل ۱۹۸۹ء ہماری دعاؤں کو قبول کرے گا اور کونسی چیز ہمارے لئے بہتر ہے لیکن اس مضمون کے ساتھ پھر بے چینی غائب ہو جاتی ہے، تکلیف کے ازالے ہو جاتے ہیں، انسان اپنے آپ کو امن میں محسوس کرتا ہے۔تو یہ بقیہ رمضان خصوصیت کے ساتھ تو حید کے لئے دعائیں کریں۔ہم نے تمام دنیا کو توحید سے فتح کرنا ہے۔اس کے بغیر عددی غلبہ اور سیاسی غلبہ کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔سچے مومن کو ان غلبوں کی ایک جوتی کی نوک کے برابر بھی پرواہ نہیں ہوا کرتی۔غلبہ وہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور خدا کی تو حید کو بنی نوع انسان کے دلوں پر قائم کر دے اور بنی نوع انسان کو اس توحید کے جلال سے مغلوب کر دیں۔پس ہمارا سفر اس صدی میں اب شروع ہو چکا ہے اس سفر کا منتہاء یہ رہنا چاہئے اور اس سفر کا قبلہ ہمیشہ یہی رہنا چاہئے اور کبھی بھی ہم میں اس قبلے سے رو گردانی نہیں کرنی چاہئے کہ اس صدی کے اختتام سے پہلے پہلے لازماً خدا کی تو حید دنیا پر غالب آجائے۔ان علاقوں میں اور ان قوموں پر بھی غالب آ جائے جہاں توحید کے نعرے تو بلند ہوتے ہیں مگر دل توحید سے خالی ہیں۔ان علاقوں اور ان قوموں میں بھی غالب آجائے جہاں توحید کے تصور کے ساتھ مشرکانہ تصور مل جل گئے ہیں اور توحید کا تصور بھی خالص نہیں رہا اور ان علاقوں میں بھی تو حید غالب آ جائے جہاں ابھی تک خدا کا تصور بھی دوبارہ قائم نہیں ہو سکا یعنی پہلی نسلوں سے اس تصور کو مٹا دیا گیا اور اب اندھی نظریں ایسی پیدا ہو رہی ہیں۔کروڑ ہا کروڑ انسان ایسے پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے خالق کے وجود کے احساس سے ہی عاری ہیں۔بہت بڑا کام ہے اتنا بڑا کام ہے کہ ہمارا اپنی موجودہ حیثیت کو دیکھتے ہوئے یہ اعلان کرنا کہ ہم یہ کام کر لیں گے ایک دیوانے کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔بارہا میں نے تجربہ کیا ہے بڑے بڑے دانشور مجھے ملنے آتے ہیں جب ان کو میں بتاتا ہوں کہ یہ ہمارا پروگرام ہے تو بعض دفعہ کہتے ہیں واقعی آپ کو یقین ہے کہ آپ ایسا کر لیں گے؟ میں ان کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ ہاں ہمیں یقین ہے اور اس یقین کی وجوہات ہیں۔میں ان کو ماضی میں لے جاتا ہوں اور پرانے زمانوں کے سفر کرا تا ہوں، ان کے مسیح کے زمانے کی سیر کراتا ہوں، ان کو بتا تا ہوں کہ دیکھو پہلے بھی ناممکن تھا، ناممکن تو ضرور ہے لیکن ہو جایا کرتا ہے یہ ناممکن۔یہ ناممکن وہ نہیں جو اس کو تم دنیا کی نظر سے ناممکن سمجھتے ہو، یہ اور مضمون ہے۔وہ ہمدردی میں بعض دفعہ شرافت میں خاموش تو ہو جاتے ہیں لیکن مجھے نظر آتا