خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 23
خطبات طاہر جلد ۸ 23 23 خطبہ جمعہ ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء " ہیئت کے اندر رکھا ہوا ہے اس کی شاکلت کے اندر کچھ حدود مقرر کی ہوئی ہیں ان حدود کے آخری کنارے کو چھونا انسان کی تکمیل ہے اور ہر شخص کی حدود کا آخری کنارہ الگ الگ ہے۔اسی لئے جب ہم کہتے ہیں کہ تمام نبی معصوم اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ (البقره: ۲۸۲) تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سید المعصومین معصوموں کے بھی سردار تو ان دو چیزوں میں تضاد نہیں ہے۔مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء معصوم ہیں لیکن ہر نبی اپنی استطاعت کے مطابق معصوم ہے۔اس کے لئے خدا نے جو معصومیت کی حدیں مقرر فرمائی ہوئی تھیں ہر نبی نے اپنی اپنی حد کو چھو لیا ہے لیکن جب حدیں وسیع ہوں تو محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے اور زیادہ جہاد کرنا پڑتا ہے ان حدوں پر عبور حاصل کرنے کے لئے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استطاعت کی حدیں زیادہ تھیں اس لئے آپ کو بہت زیادہ محنت کرنی پڑی ہے۔ایک لحاظ سے تو آپ نے وہی کچھ کیا ہے جو باقی انبیاء نے کیا یعنی اپنی حد استطاعت تک پہنچے لیکن ایک دوسرے لحاظ سے آپ نے اپنی حد استطاعت کو چھونے کے لئے بہت زیادہ محنت کی ہے بہ نسبت دوسرے انبیاء کے جنہوں نے اپنی اپنی حد استطاعت کو چھوا۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرق کو ظاہر کرنے کے لئے ایک تمثیل کے طور پر ہمارے سامنے اس واقعہ کو رکھا کہ جب حضرت موسیٰ ر نے خدا سے یہ عرض کیا کہ مجھے اپنا چہرہ دکھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو میرے چہرے کو نہیں دیکھ سکتا حالانکہ پہلا سفر جو خدا کی طرف کیا گیا تھا اس میں آپ نے خدا کو دیکھا۔ایک آگ کے شعلے کی صورت میں آپ نے خدا کو دیکھا تھا۔تو یہ جوفرمایا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا اس سے مراد یہ تھی کہ جو جلوہ تو چاہتا ہے وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا جلوہ ہے جو آپ دیکھ سکتے ہیں اور تو نہیں دیکھ سکتا تو چنانچہ اس فرق کو دکھانے کی خاطر آپ نے فرمایا کہ میں پہاڑ پر تجلی کرتا ہوں اگر یہ تو برداشت کر سکے تو پھر وہ جلوہ بھی برداشت کر سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب پہاڑ پر تجلی فرمائی تو پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور حضرت موسی غش کھا کر گر پڑے۔تو سوال یہ ہے کہ حدیں تو الگ الگ ہیں لیکن ہر حد کو چھونے کے لئے محنت میں فرق پڑ جاتا ہے۔جس حد تک حضرت موسی" پہنچے تھے اس حد تک آنحضرت یہ بھی