خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد ۸ 24 خطبہ جمعہ ۱۳/ جنوری ۱۹۸۹ء پہنچے لیکن پھر آگے بھی تو بڑھے اس لئے کہ آپ کی حد زیادہ اونچی تھی۔اسی مضمون کو خدا تعالیٰ نے معراج کی شکل میں بیان فرمایا۔پس غناء کے نتیجے میں جب انسان دوسری چیزوں کو ترک کر کے خدا کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے تو اس مضمون کو ہر انسان اپنی ذات پر پہلے چسپاں کرے اور یہ معلوم کرہے کہ کہاں کہاں خدا نہیں ہے میری ذات میں اور غیر اللہ موجود ہے۔اس طرح جب غور کرے گا تو ہر شخص کے بت بھی مختلف ہوں گے، ہر شخص کے سفر کی طوالت بھی الگ الگ ہو جائے گی لیکن ہر شخص کا انتہائی مقام ایک مقرر ہے اس مقام تک پہنچنا اس کے لئے ممکن ہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بنا ہر شخص کے لئے ممکن نہیں ہے یقینا ممکن نہیں ہے یعنی اس تشریح کے ساتھ جو میں نے بیان کی ہے لیکن ہر شخص کا اپنی آخری حد کو چھولینا یہ ممکن ہے۔اس پہلو سے فرارالی اللہ کا سفر جو ہے وہ ساری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے اور انسان اپنے نفس میں ڈوب کر جب وہ جگہیں تلاش کرتا ہے جہاں خدا نہیں ہے تو شاذ ہی کوئی ایک ایسا انسان ہو جسے وہ جگہیں نہ ملتی ہوں۔اگر وہ بصارت کے ساتھ آنکھیں کھول کر دیکھے اور اگر آنکھیں بند رکھے تو ہر انسان سمجھتا ہے میرے اندر خدا ہی خدا ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔چنانچہ اندھے یہ دعویٰ کر دیتے ہیں کہ ہم خدا والے ہو چکے ہیں اور صاحب بصیرت لوگ جانتے ہیں کہ ہمارا ابھی بہت سا سفر طے کرنا باقی ہے۔جن کو غیر کی نظر خدا والا سمجھ رہی ہوتی ہے ان کی اپنی نظر اپنے آپ کو خدا والا نہیں سمجھ رہی ہوتی چنانچہ وہ قرآن کریم کی اس آیت کے تابع اپنی زندگی کا سفر جاری رکھتے ہیں فَلَا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم :۳۳) کہ تم اپنے نفسوں کا تزکیہ نہ کرو یہ فضول بات چھوڑ دوخدا ہی بہتر جانتا ہے تم میں سے کون ہے جو صحیح معنوں میں تزکیہ اختیار کر چکا ہے، مکمل تزکیہ اختیار کر چکا ہے۔پس جماعت اگر اپنے نفس میں ڈوبنے کا شعور حاصل کر لے تو بہت سی مصیبتوں اور دھندوں سے چھٹکار امل جائے۔ہر وقت جو جماعت میں بعض لوگ دوسروں پر تنقید کر کے منافرت پھیلانے والے اپنی بڑائیاں کرنے والے دوسروں پر اور اپنے بھائیوں کی تحقیر کرنے والے آپ کو ملتے ہیں کسی سے چھوٹی سی غلطی ہو گئی اس کو اچھالتے ہیں اور دنیا میں اس کو مشتہر کرتے ہیں۔سارا معاشرہ اس سے دکھی ہو جاتا ہے لیکن اگر آپ خدا کی طرف سفر اختیار کرنا شروع کریں جس طرح میں ط