خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 271
خطبات طاہر جلد ۸ 271 خطبه جمعه ۲۸ اپریل ۱۹۸۹ء کے ساتھ موجود رہتی ہے۔چنانچہ حضرت موسی نے بھی جب قوم کو خوف در پیش تھا، آپ کو بھی خوف در پیش تھا۔آپ نے فرمایا میرا رب میرے ساتھ ہے وہ میری ہدایت کرے گا۔آنحضرت ﷺ نے غار ثور میں فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبۃ: ۴۰) اے ابو بکر کوئی غم نہ کر خدا ہمارے ساتھ ہے۔تو غم تو تھا لیکن اس توحید کامل نے اس غم کو کالعدم کر دیا ، اس کو بے حیثیت کر دیا۔پس ہر طرف پہلے خلا پیدا کرنے پڑیں گے مواحد بننے کے لئے۔اپنے ہر تعلقات کے دائرے پر نظر کرنی پڑے گی ، اپنے نفوس کا جائزہ لینا ہوگا، یہ دیکھنا ہوگا کہ کس حد تک وہ ایسے وجود ہیں جو کسی حالت میں بھی آپ کو چھوڑ نہیں سکتے یعنی آپ ان کو چھوڑ نہیں سکتے اور اگر وہ ہاتھ سے جائیں تو آپ کے اندر بے اختیار واویلے کی اور نوح کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور وہ غم ہو سکتا ہے آپ کو مغلوب کر لے اور نڈھال کر دے۔اگر کوئی ایسی شکل ہے تو پھر وہاں جھوٹے خدا موجود ہیں اور ان سے نجات حاصل کرنا یہ تو حید کامل ہے۔اسی کا نام اللہ کی طرف ہجرت کرنا ہے۔اس مضمون کا آغاز برائیاں چھوڑنے سے ہوتا ہے۔جب ہم کہتے ہیں برائیاں چھوڑ و تو در حقیقت اس کا ہجرت ہی سے تعلق ہے اور تو حید ہی سے تعلق ہے۔اب برائیوں کے اوپر آپ جب غور کریں کہ آپ کیوں ان کو نہیں چھوڑتے ؟ تو ہر تجزیے کے وقت یہ بات سامنے آئے گی کہ ایک چھوٹا سا بت ہے جس کی آپ پوجا کر رہے ہیں۔عمداً بالا رادہ نہ سہی غیر ارادی طور پر ہی سہی ایک نفس کی مجبوری کی حالت کے طور پر ہی سہی ، بعض عادتوں کے آپ غلام بن چکے ہیں، مجبور ہو گئے ہیں لیکن وہ بت بہر حال اپنی جگہ قائم رہتے ہیں اس لئے وہ شخص جو موحد کامل نہ ہو وہ کبھی بھی برائیوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتا۔پس وہ جتنی نصیحتیں میں نے جماعت کو کی ہیں نئی صدی میں داخل ہونے کے لئے ان کا دراصل تو حید ہی سے تعلق ہے۔بارہا میں نے کہا کہ اپنے چھوٹوں سے شفقت کا سلوک کریں، اپنے گھروں کو جنت نشان بنائیں، اپنی بیچاری مظلوم بیویوں کا بھی خیال کریں۔وہ بھی کسی کی بیٹیاں تھیں ناز و نعم سے پلنے والی۔آپ کے زیر اثر آگئیں ان کو اس حالت میں نہ چھوڑیں کہ فرعون کی بیوی کی طرح ان کے دلوں سے دعائیں نکلیں کہ اے خدا ہم مظلوم اور مجبور ہیں، ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے، تو ہمیں ان مظالم سے بچا۔یہ ساری باتیں اور اس کے علاوہ بے شمار معاشرے کی برائیاں ہیں جن کو میں نے گزشتہ چند سالوں میں ایک ایک کر کے لیا اور جماعت کے سامنے رکھا۔ان باتوں کو کچھ چھوڑنے