خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 22
خطبات طاہر جلد ۸ 22 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء اخلاق کی بہت ہی اعلیٰ منزل ہے اس کا اس بد اخلاقی سے کوئی تعلق نہیں کہ ہم اپنے تعلق توڑنے والوں کو کہتے ہیں جاؤ جہنم میں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر چیز کی پروا کرتا ہے۔پس ایک طرف کچھ پروا نہ ہونا اور ایک طرف پروا کی حد بلکہ ایسا مقام کہ گویا حد کوئی نہیں ان دونوں کے امتزاج کا نام غناء ہے دراصل۔وجہ یہ ہے کہ کوئی چیز جو خدا کی ملکیت ہے وہ جب اس سے الگ ہوتی ہے تو اس کی ملکیت اس سے الگ ہوتی ہے چونکہ بے انتہاء ہے اس کے پاس اس لئے اس کا الگ ہونا خدا کو نقصان نہیں پہنچا تا یہ ہے غناء لیکن جس کی جو چیز ہو اس سے اس کو پیار ہوتا ہے اور اس تعلق کی بنا پر جب وہ واپس ملتی ہے تو اس وجہ سے خوشی نہیں ہے اس کو یعنی خدا تعالیٰ کی ذات کو کہ گویا اس کے خزانوں میں اضافہ ہو گیا ہے بلکہ اس کے پیار کی طلب پوری ہوئی ہے۔اس لئے احتیاج پورا ہونے کی مثال تو بندے کی وجہ سے دی گئی ورنہ بندہ تو ان باتوں کو سمجھ نہیں سکتا اور نہ حقیقی معنی اس مثال کے یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں سے اتنا تعلق، اتنا پیار ہے کہ ان کے جانے سے اگر چہ اس کو کوئی نقصان نہیں لیکن ان کے آنے سے اس کو بہت خوشی ہوتی ہے۔تو حقیقت میں خدا تعالیٰ کی صفات پر غور کے نتیجے ہی میں اعلیٰ اخلاق نصیب ہو سکتے ہیں اگر ہم خدا تعالیٰ کی صفات پر غور نہ کریں تو ہم ہرگز اعلیٰ اخلاق حاصل نہیں کر سکتے۔پس فرار الی اللہ کی جب میں بات کرتا ہوں تو میری مراد یہ نہیں ہے کہ کسی بدی کو ایک دم ارادے کے ساتھ چھوڑ دیا جائے بلکہ یہ مضمون بہت گہرا ہے یعنی مومن کی زندگی میں بدی چھوڑنا اور نیکی اختیار کرنا کوئی دنیا دار کے ساتھ گزرنے والا واقعہ نہیں ہے۔بعض لوگ ارادہ کرتے ہیں کہ آج سے میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ان کے جھوٹ چھوڑنے میں اور ایک مومن کے فرار الی اللہ میں بے شمار فرق ہے، بے انتہا فرق ہے کیونکہ مومن جب جھوٹ چھوڑ کر سچائی کو اختیار کرتا ہے تو حق کا جو تصور وہ باندھتا ہے وہ خدا کا تصور ہے اور خدا کے حق ہونے اور بندے کے سچائی کے تصور میں زمین آسمان کا فرق ہے۔خدا کی صفات میں اتنی گہرائی ہے کہ خدا کی ذات کی طرح خدا کی ہر صفت بھی لامتناہی ہے پس یہ سفر ایک ایسا سفر بن جاتا ہے جس کو انسان ساری زندگی بھی ختم نہیں کرسکتا، طے کرتا رہتا ہے یعنی ایک مقام سے دوسرے مقام ، دوسرے سے تیسرے مقام، تیسرے سے چوتھے مقام کی طرف منتقل ہوتا چلا جاتا ہے لیکن یہ کہنا کہ میں نے سفر کا آخری مقام حاصل کر لیا یہ درست نہیں۔حد استطاعت تک جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا ایک انسان اس مرتبے کو حاصل کر سکتا ہے جو خدا نے اس کی