خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 21 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 21

خطبات طاہر جلد ۸ 21 خطبہ جمعہ ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء میں سے ہر سوال کرنے والے کو جو کچھ اس نے مانگا ہے اسے دے دوں تو یہ چیز میری بادشاہت میں اتنی بھی کمی نہیں کر سکتی جتنا کہ وہ شخص جو سمندر کے کنارے سے گزرتے ہوئے اس میں سوئی ڈبوئے اور اسے نکال لے۔سوئی کے ناکے کے ساتھ جتنا پانی چمٹا ہوا رہ جائے گاوہ پانی سمندروں میں جتنی کمی کر سکتا ہے تم سب کی مانگی ہوئی تمام خواہشات بھی میں پوری کر دوں تو میری کائنات میں اتنی بھی کمی نہیں آئے گی۔یہ ہے اصل مثبت پہلو جس کے نتیجے میں وہ دوسرا پہلو پیدا ہوتا ہے یعنی غناء کا لفظ جو استغناء کے معنی رکھتا ہے وہ اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں استغناء کے معنے کہ غنی کے پاس سب کچھ ہے پس جس شخص کو خدا کے ساتھ ہونے کا احساس نہ ہو اور یہ یقین نہ ہو کہ خدا میرے ساتھ ہے وہ نہ غنی ہے اور نہ مستغنی ہے۔غناء کا ایک غلط مطلب ہم اپنے روزمرہ کے تعلقات میں یہ سمجھتے ہیں کہ کسی سے تعلق ٹوٹے تو ہم کہتے ہیں جاؤ جہنم میں ہمیں کوئی پروا نہیں۔پنجابی میں اس قسم کے بہت سے محاورے ملتے ہیں کہ جس شخص سے کسی چیز کی توقع تھی اس نے پوری نہیں کی، کسی سے تعلق تھا اس نے توڑ دیا تو اردو میں کہتے ہیں ”جاؤ جہنم میں“۔پنجابی میں کہتے ہیں ”خصماں نوں کھا“۔جو مرضی ہو عجیب سا محاورہ ہے اس کی تشریح کی ضرورت نہیں مگر پنجابی اس مضمون کو خوب سمجھتے ہیں۔یہ پنجاب کی استغناء کی آخری شکل ہے۔اس کو بد خلقی کہتے ہیں۔یہ استغناء نہیں ہے کیونکہ خدا کو چھوڑ کر جب بد بخت جاتا ہے تو اس کے جانے سے کمی تو کچھ نہیں ہوتی مگر خدا تعالیٰ کی ذات اس کے لئے نفرت کے جذبات اپنے اندر نہیں رکھتی بلکہ اس کے واپس آنے کی منتظر ہوتی ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مضمون کو ایک اور رنگ میں یوں بیان فرمایا کہ اگر کوئی شخص صحرا میں ایسی جگہ ہو کہ دور دور تک اس کو کوئی مدد، کوئی سہارا نہ ہو۔اس کی اونٹنی پر اس کا سارا سامان لدا ہوا ہو۔بیچ دو پہر کے وہ آرام کی خاطر کچھ دیر کے لئے ستانے لگے اور اس عرصے اس کی اونٹنی جس میں اس کا پانی اس کی خوراک سب کچھ لدا ہوا تھا وہ بہک جائے اور اس کے ہاتھ سے جاتی رہے۔ایسے وقت میں وہ اس اونٹنی کے لئے کیسی طلب محسوس کرتا ہے اس کا ذکر حضور نے نہیں فرمایا لیکن اس کے بعد یہ فرمایا کہ اچانک وہ اونٹنی اس کو مل جائے تو اس کو جتنی خوشی اس کھوئی ہوئی اونٹنی سے محسوس ہوتی ہے اس سے زیادہ خدا اپنے گناہگار بندے کے واپس آنے کے متعلق محسوس کرتا ہے جو اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔تو خدا کی غناء جو ہے یہ