خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد ۸ 252 خطبه جمعه ۲۱ را پریل ۱۹۸۹ء یہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ساری دنیا میں جو تحریک چلی ہے یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے نتیجے میں ہے۔جماعت کی کوششوں کا اگر کوئی دخل ہے تو صرف اتنا کہ جماعت درمندانہ دعائیں کرتی رہی۔سب سے پہلے تو میں آپ کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ تدابیر کو اختیار کرنا ہمارا فرض ہے، تدابیر کو حد امکان تک آگے بڑھانا اور کوشش کو اس کے منتہا تک پہنچا دینا یہ ہمارا فرض ہے لیکن تدبیروں میں سب سے اعلیٰ تدبیر دعا ہے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم پر یہ نقطہ کھولا اور بار بار کھولا کہ دعا کو تدبیر سے الگ نہ کرو۔دعا تد بیر کا حصہ ہے اور تدبیروں میں سے سب سے اعلیٰ درجہ کی تدبیر دعا ہے۔کیونکہ تدبیر کے نتیجے میں عام تدبیر کے نتیجے میں تقدیریں نہیں بدلا کرتیں لیکن دعا ایک ایسی تدبیر ہے کہ جو تقدیروں کو تبدیل کر دیا کرتی ہے۔پس اس سے زیادہ اعلیٰ پایہ کی تدبیر مکن نہیں ہے جس کا براہ راست تقدیر الہی سے گہرا تعلق ہے۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ جماعت کو یہی نصیت کی کہ تمام تدابیر میں دعا کی تدبیر کوسب سے زیادہ اہمیت دو اور اسلام کی عظیم الشان ترقی کا اور اسلام کے عظیم الشان غلبے کا یہی تجزیہ پیش فرمایا کہ یہ فانی فی اللہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے اسلام کے عظیم الشان غلبہ کا معجزہ دکھایا۔پس آج ہم اپنی آنکھوں کے سامنے جو یہ غیر معمولی خدا کے فضلوں اور رحمتوں کے نظارے دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھ رہے ہیں کہ گویا آسمان کی تقدیر ہم پر رحمتیں برسانے کے لئے جھک گئی ہے جس طرح کوئی رحمت کی گھٹا آتی ہے اور جب وہ پانی سے بوجھل ہو جاتی ہے تو زمین کی طرف جھک جاتی ہے۔بعض دفعہ یوں لگتا ہے کہ آسمان سے بادل اتر آئے ہیں اور ہمارے گھروں میں داخل ہو گئے ہیں۔پس یہ وہ دور ہے جس میں ہم نے خدا کی رحمت کو اس طرح گھٹاؤں کی طرح اور بوجھل گھٹاؤں کی طرح اپنے اوپر اتر تے دیکھا ہے اور ہر ملک میں جماعت احمد یہ یہی مشاہدہ کر رہی ہے اور یہی جو نظارے ہیں یہ خالصہ دعاؤں کے نتیجے میں ظاہر ہوا کرتے ہیں اور دعاؤں کی مقبولیت کا نشان ہوا کرتے ہیں۔پس اس اصل کو اس بنیاد کو کبھی بھی بھلانا نہیں ہے اور اس اصل اور اس بنیاد سے کبھی ٹلنا نہیں ہے۔ہمارا سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے۔اس ضمن میں میں اہل پاکستان کو بھی متوجہ کرتا ہوں۔ان کو بھی جو دوست ہیں اور ان کو بھی