خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 247
خطبات طاہر جلد ۸ 247 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء کانوں نے تمام دنیا سے جماعت احمدیہ کی یہ بھنبھناہٹ سنی جو مجھے پیغام دے رہی تھی کہ لبیک لبیک یا سیدی لبیک۔اے محمد مصطفی" کے غلام آپ کی غلامی میں جو تو ہمیں پیغام دے گا ہم تجھے یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس نام کی عظمت کی خاطر آگے بھی لڑیں اور پیچھے بھی لڑیں گے، دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور کوئی دنیا کی طاقت ہمیں نا کام اور نا مراد نہیں کر سکتی۔آج بھی میرے آگے لڑنے اور میرے پیچھے لڑنے اور میرے دائیں لڑنے اور میرے بائیں لڑنے کا وقت نہیں ہے۔کلمہ توحید کے آگے لڑنے اور پیچھے لڑنے اور دائیں لڑنے اور بائیں لڑنے کا وقت ہے۔اس لئے میں نے آپ کو بار بار یہ سمجھایا کہ وہی آواز ہے جو پہلی آواز ہے۔آج ہم سے مطالبہ یہ ہے کہ تم کلمہ توحید سے اپنا تعلق تو ڑلو۔آج ہم سے مطالبہ یہ ہے کہ ہم سب آسانیاں تمہارے لئے پیدا کر دیں گے اگر تم یہ کہہ دو کہ خدا ایک نہیں ہے اور محمد رسول اللہ اس کے بچے رسول نہیں ہیں۔پس یہ وہ پیغام ہے یہ محمد مصطفی کی عزت ہے، یہ تو حید کا مقام اور مرتبہ ہے ہم جس کے آگے بھی آج لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو اس لحاظ سے ہمیں شکست دے سکے۔کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو ہمیں اور قدروں کو اس قدر پر ترجیح دینے پر آمادہ اور مجبور کر سکے۔پس ہمارا جواب تو وہی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کا جواب تھا اور پھر وہی جواب ہے جو ان نیک اور متقیوں کا جواب تھا جن کو جب فرعون نے ڈرایا تو انہوں نے یہ جواب دیا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ جو کچھ کر سکتے ہو کر لو تم ہمیں نا کام نہیں کر سکتے۔کوئی دنیا کی طاقت ہمیں ناکام اور نا مراد نہیں کر سکتی۔اس کا دوسرا پہلو اب چونکہ وقت گزر چکا ہے، زیادہ ہو گیا ہے اس مختصر میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ وہ آیات جو میں نے تلاوت کی تھیں میرے نزدیک ان کا جماعت کے اس دور سے گہرا تعلق ہے جس میں سے ہم گزر رہے ہیں۔ان آیات میں یہ نقشہ کھینچا گیا ہے کہ بعض خدا کے پاک بندوں نے جب ربنا اللہ کا دعوی بلند کیا تو بعض ظالموں نے ان کو گڑھوں میں اتارا یا ان کے اموال اور سامانوں کو اکٹھا کیا اور آ گئیں لگائیں اور تماشے دیکھے اور وہ شہید تھے اس بات کے گواہ تھے اور دیکھ رہے تھے اور مزے اُڑا رہے تھے۔یہ جو واقعہ نکانہ صاحب میں گزرا ہے یہ بالکل اسی واقعہ کی یاد دلاتا ہے جو سر گودھا میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں گزرا تھا بالکل وہی نقشہ تھا اسی طرح پولیس