خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 20

خطبات طاہر جلد ۸ 20 20 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۹ء نصیب ہو سکتی ہے ورنہ نہیں نصیب ہو سکتی کیونکہ غناء کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کچھ بھی نہ ہو اور انسان راضی ہو۔جیسا کہ میں نے کہا تھا قناعت کی ترقی یافتہ صورت ہے۔قناعت کے بعد غناءتب نصیب ہوتی ہے جب اس سے تعلق ہو جس کے پاس سب کچھ ہے اس لئے یہ صبر سے بھی مستغنی کر دیتی ہے صبر سے بالا مقام ہے غناء کا۔اگر یہ انسان کو معلوم ہو کہ جس سے میرا تعلق ہے اس کے پاس سب کچھ ہے اور یہ یقین ہو کہ جو کچھ میرے ہاتھ سے جا رہا ہے وہ اس کے پاس جا رہا ہے تو اس کامل شعور اور عارفانہ شعور کا نام غناء ہے۔پس بندے کی غناء اللہ کے تعلق کے بغیر ممکن نہیں ہے۔جہاں تک خدا کی غناء کا تعلق ہے اس کا نقشہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر کھینچا اور آپ ہی کے الفاظ میں ایک لمبی حدیث میں سے ایک اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں۔یہ حدیث قدسی ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی ذات کا عرفان ان الفاظ میں بخشا۔فرمایا کہ یعنی دنیا کو بتا دو کہ اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندہ اور تمہارے مردہ، تمہارے رطب و یا بس یعنی مومن اور غیر مومن، نیک اور بدسب کے سب میرے بندوں میں سے بدبخت ترین آدمی کے دل کی مانند ہو جائیں۔بد بخت ترین آدمی کے دل کی مانند یہ عجیب مثال ہے کیونکہ بد بخت ترین آدمی کا دل وہ ہے جو خدا سے سب سے زیادہ دور ہے اور خدا کا دشمن ہے تو فرمایا کہ صرف دوری نہیں مجھ سے کھوئے نہ جائیں بلکہ بد بخت ترین آدمی کے دل کی طرح سیاہ ہو جائیں اور میری دشمنی اور میری نفرت کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آئے تو یہ بات میری بادشاہت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کر سکتی۔پس کھونے کے نتیجے میں بے چینی کا نہ ہونا یہ بھی ممکن ہے جب اتنا ہو کہ کمی کا احساس ہی نہ ہو یہ غناء ہے ورنہ صبر ہے۔تو حقیقی غناء خدا کے سوا کسی ذات کو حاصل نہیں ہوسکتی اور ایک جاہل کی خواب ہے اگر کوئی انسان یہ سوچے کہ میں غنی ہوں مجھے کوئی پروا نہیں۔غناء خدا سے تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوسکتی ہے اور خدا سے ایسے تعلق کے نتیجے میں جس کے ساتھ بجز کے باوجود مالکیت کا احساس ہو یعنی خدا کی کائنات میں خدا کی عطا کے نتیجے میں شراکت کا احساس ہو۔یہ وہ سچا احساس اور شعور ہے جو انسان کو سچی غناء بخشتا ہے۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تمہارے اگلے اور تمہارے پچھلے تمہارے زندہ اور تمہارے مردہ اور تمہارے رطب اور تمہارے یا بس سب کے سب اکٹھے ہو جائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اپنی خواہش کے مطابق مطالبہ کرے اور میں ان