خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 244

خطبات طاہر جلد ۸ 244 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء ہیں اور وہ پاتی ہیں اس لئے کہ وہ خود ان کے اپنے کسی کمال کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ان کو یہ توفیق عطا ہوتی ہے ورنہ جن حالات کا ان کو سامنا کرنا پڑتا ہے دنیا کی قوموں کو حوصلہ مل نہیں سکتا ان حالات میں۔کوئی روشنی بظاہر دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔نسلاً بعد نسلا اپنے آپ کو ، اپنے ماضی کو کمزوریوں میں سے گزرتا ہوا دیکھتی ہیں اور پھر آئندہ بھی دور تک ظلم کے سائے محیط دیکھتی ہیں۔ایسے حالات میں حوصلہ رکھنا سوائے خدا کے فضل کے کسی کو نصیب نہیں ہوسکتا۔تو دراصل یہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کے حوصلے کو پست کر دیں گے جن کو خدا نے حوصلہ دیا ہے۔پہلے ان کی کیا حالت ہے اور جو یہ سمجھتے ہیں اور اگر یہ ان کی نیت ہے کہ وہ ہمیں تکلیف دے کر یہ دنیا کو بتائیں کہ دیکھو ان کا مباہلہ الٹا پڑ گیا اور مباہلے کے بعد دیکھوان کو تکلیفیں پہنچائی ہیں ہم نے۔انسان کی دی ہوئی تکلیفوں کو لعنت قرار دینے والے بہت ہی دنیا میں پرلے درجے کے احمق لوگ ہیں کیونکہ انبیاء کے مقدس گروہ کو ہمیشہ انسانوں نے تکلیفیں پہنچائی ہیں اور آخری وقت تک ان کو تکلیفیں پہنچتی رہی ہیں اور عذاب وہ ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہو اور اس کی نشانی یہ ہے کہ عذاب مٹادیا کرتا ہے قوموں کو۔ان کو ذلیل ورسوا کر دیا کرتا ہے، ان کے حوصلے پست کر دیا کرتا ہے، ان کے دل شکست کھا جاتے ہیں مگر وہ قومیں جو خدا کے لئے ، خدا کی طرف سے ابتلاؤں میں ڈالی جاتی ہیں ان پر ان علامتوں میں سے ایک بھی صادق نہیں آتی۔نہ ان کے سرنگوں ہوتے ہیں، نہ ان کے حوصلے پست ہوتے ہیں، نہ ان کے دلوں پر مایوسی کے سائے پڑتے ہیں۔وہ انتہائی ظلمات کے وقت بھی اپنے دل سے ایک ابلتا ہوا نور دیکھتے ہیں اور اس نور سے وہ آگے بڑھتے ہیں اس کی روشنی میں وہ آگے چلتے ہیں۔یہ وہ تقدیر ہے جو جماعت احمدیہ کی تقدیر ہے پہلوں نے بھی آزمایا تھا تم بھی آزمالو تمہاری اگلی نسلیں بھی آزماتی چلی جائیں مگر جماعت احمدیہ کی ترقی کو م نہیں روک سکتے۔جماعت احمدیہ کا قدم ہمیشہ آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔قربانی کے ہر میدان میں ہم لبیک کہیں گے۔میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ جماعت کو اس موقع پر کیا ہدایت دوں؟ کیا وہ یہ ہدایت دوں کہ تم قانونی حق کو اختیار کرتے ہوئے پھر جو کچھ بھی ہے تم اپنا دفاع کرو اور خدا پر توکل رکھو اور ہر قسم کی ابتلاء کے لئے تیار ہو جاؤ یا یہ ہدایت دوں کہ تم ابھی صبر سے کام لو اور مزید صبر سے کام لو اور مزید صبر سے کام لو اور خدا کی رحمت کے امیدوار رہو جیسا کہ تم ہو اور دشمن جو کچھ کر سکتا ہے اس کو کر گز رنے دو۔