خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد ۸ 239 خطبه جمعه ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء سکتے ہو۔ پس بعض عورت کے نخرے تمہیں برداشت کرنے پڑیں گے بلکہ ان کے ساتھ اس طرح رہنا پڑے گا کہ اس کا لطف اٹھاؤ ۔ ان کی کبھی میں بھی ایک حسن ہے اور مثال کتنی خوبصورت ہے پہلی ۔ پہلی کی کبھی بد زیب دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کا حسن ہی اس خم میں ہے جس کو خدا تعالیٰ نے خاص تقدیر کے الله ساتھ بنایا ہے۔ تو ہمارا تو برتھ مارک ہے آنحضرت صلی اور خدا کی محبت اسے کس طرح مٹاؤ گے؟ عليه ہمارے گھروں کو جلا دو، ہمارے جسموں کو جلا دو، ہمارے اموال لوٹ لو، ہماری عورتوں، بچوں، مردوں کو فنا کر دو مگر خدا کی قسم محمد مصطفیٰ کے خدا کی قسم اور کائنات کے خدا کی قسم کہ احمدیت کے دل جو محمد مصطفیٰ اور اللہ کی محبت کا برتھ مارک ہے اس کو نہیں مٹا سکتے تم ۔ تمہیں طاقت کیا، استطاعت کیا ہے کہ ان دلوں تک پہنچ سکو۔ تمہاری آگیں جسموں تک جا کر ختم ہو جائیں گی۔ ہاں دلوں تک پہنچنے والی ایک آگ ہے جو خدا جلاتا ہے اور وہ جب فیصلہ کرے گا تمہارے دل پر وہ برسائی جائے گی تو کوئی دنیا کی طاقت تمہیں اس آگ کے اثر سے بچا نہیں سکتی۔ میں جو محمد d اس سلسلے میں میں نے قرآن کریم کی ایک آیت چنی ہے جو نمونہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مومن کا ایسے حالات میں کیا ردعمل ہوتا ہے اس کے اوپر قرآن کریم نے مختلف مواقع پر مختلف رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔ فرماتا ہے فرعون نے ان لوگوں کو دھمکی دی جو موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے اور کہا فَلَا قَطِعَنَ أَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُوصَلِّبَنَّكُمُ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَى (طہ:۷۲) کہ میں تمہارے ہاتھ کاٹ دوں گا اور تمہارے پاؤں کاٹ دوں گا مخالف سمتوں سے۔ یعنی ایک طرف سے تمہارے بازو کاٹوں گا تو دوسری طرف سے تمہارے پاؤں کاٹ دوں گا ، تمہاری ٹانیں کاٹ دوں گا اور اس حالت میں کلیہ بے بس کر کے تمہیں پھینک دوں گا۔ تم ہوتے کون ہو میری اجازت کے بغیر موسیٰ اور اس کے خدا پر ایمان لانے والے۔ یہ فرعونیت کی آواز جو ہے یہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اسی طرح رہی اور ہمیشہ یہ اسی طرح رہے گی ۔ خدا اس کے بھیجے ہوؤں پر ایمان لانے کے لئے قوموں کی اجازت کا پابند کیا جاتا ہے۔ ان قوموں کی اجازت جو حاکم ہوں اور ان بادشاہوں کی اجازت کا پابند کیا جاتا ہے جو حاکم وقت ہوں۔ ان کی مرضی کے بغیر تم کون ہوتے ہو خدا پر ایمان لانے والے اور خدا کے بھیجے ہوؤں پر ایمان لانے والے۔ یہ سوال تھا جو اس وقت بھی اٹھا تھا ، آج بھی اٹھا ہے،