خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 238
خطبات طاہر جلد ۸ 238 خطبه جمعه ۱۴ را پریل ۱۹۸۹ء غیرت ہے۔نہ تمہیں کوئی انسانی عزت اور انسانی اخلاق اور قدروں کا کوئی پاس ہے نہ ہمیں کوئی انسانی عزتوں اور اخلاق اور قدروں کا پاس ہے۔اس لئے اس مقابلے میں تو ہم تم سے شکست نہیں کھا سکتے۔چنانچہ یہ وہ سودا ہوا جس کے ہوتے ہی وہ آگ جو دلوں میں بند تھی وہ بھڑک کر باہر نکلی ہے اور مزید منصوبے بنائے جارہے ہیں کہ احمدیوں کے لئے مسائل کھڑے کر کے مرکز پنجاب کو نیچا دکھائے اور پنجاب مرکز کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے کہ ہم زیادہ سفاک اور ظالم ہیں اور احمدیوں کو جہاں تک دکھ پہنچانے کا تعلق ہے ہم تم سے آگے بڑھ جائیں گے۔یعنی یہ ارادے لے کر پنجاب کا رروائیاں کرے اور یہی ارادے باندھ کر مرکز جوابی کارروائی یہ کرے کہ اچھا احمدیوں کو اور بھی ہم مارتے ہیں۔یہ تو ہے انسان کی بنائی ہوئی تقدیر۔جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا ہے کہ جماعت احمد یہ خدا کے نام پر کوئی سودا نہیں کر سکتی ، ناممکن ہے اور خدا تعالیٰ نے جو اپنی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دی ہے اور اپنے محبوب ترین رسول حضرت محمد مصطفی علی کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال دی ہے وہ ایسی گہری ہماری ذات کے ساتھ ، ہمارے وجود کے ساتھ پیوستہ ہو چکی ہے کہ ہمارے وجود کا ایک انمٹ حصہ بن گئی ہے۔اسے الگ کرنا ہمارے قبضہ قدرت میں نہیں، ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔اس برتھ مارک کی طرح جس کے متعلق میں نے ایک دفعہ پہلے بھی آپ کو سنایا تھا قصہ کہ ایک برتھ مارک کسی خوبصورت چہرے پر تھا اور وہ خاتون جس کے چہرے پر وہ برتھ مارک تھا اس کا عاشق ایک سائنسدان تھا۔وہ چاہتا تھا کہ وہ چہرہ کامل ہو جائے اور ہر داغ اور ہر عیب سے پاک دکھائی دے۔چنانچہ اس نے ساری عمر اس پر تحقیق کی اور تحقیق کرنے کے بعد برتھ مارک دور کرنے کے لئے ایک دوا ایجاد کی اور وہ دوا اس نے اس عورت کو دینی شروع کی۔جوں جوں قطرہ قطرہ اس کے جسم میں وہ دوا سرایت کرتی جاتی تھی وہ برتھ مارک ہلکا ہوتا چلا جا تا تھا اور ہلکا اور مدہم پڑتا چلا جاتا تھا۔یہاں تک کہ جب وہ برتھ مارک غائب ہو گیا تو اس عورت کی روح بھی قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔یہ خلاصہ ہے اس کہانی کا جو یہ بتانے کے لئے لکھی گئی کہ بعض عادتیں انسانی فطرت کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں ان کو تم مٹا نہیں سکتے۔ان کو مٹانا زندگی کومٹانے کے مترادف ہو جایا کرتا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے عورت کی نزاکت اور اس کے نخرے کا ذکر کرتے ہوئے نہایت ہی پیارے رنگ میں فرمایا کہ عورت پسلی سے بنائی گئی ہے اور پسلی کو تم سیدھا نہیں کر سکتے توڑ