خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 235

خطبات طاہر جلد ۸ 235 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء اور جہالت میں یہ کام کر رہے ہیں ان کی حالت بذات خود قابل رحم ہے۔ایک آگ نے تم کو جلا رکھا ہے وہی آگ تھی جو باہر نکلی ہے لیکن ان کی خاطر ہم دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانا تو چھوڑ نہیں سکتے۔ان کی خاطر ہم شاہرائے ترقی اسلام کی راہ پر قدم آگے بڑھانا تو نہیں چھوڑ سکتے۔اس لئے یہ واقعات ہوں گے اور بھی ہوں گے اور بڑے بڑے بدار ادے ہیں جو ہمارے علم میں ہیں لیکن جماعت احمدیہ عالمگیر ان اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے دل میں درد تو محسوس کرے گی، ان کے لئے دعائیں بھی کرے گی، ہر قربانی کے لئے بھی تیار رہے گی ان کے دل ان کی طرف لپکیں گے ان سے بھاگیں گے نہیں تا کہ ان کی تکلیفوں میں حصہ پا کر اپنے لئے تسکین کا سامان پیدا کریں۔وہ زندہ صحت مند جسم کی طرح جو ماؤف حصے کی طرف لپکتا ہے اس طرح ہمارے دل، ہمارے جسم ان مظلوموں کی طرف لپکتے رہیں گے اور جب بھی توفیق ملے گی ہم ان کی تکلیفوں میں حصے لے کر اپنے لئے تسکین قلب کا سامان پیدا کریں گے لیکن جلن کا نہیں۔احمدی دلوں کو خدا کی آگ سے بچایا گیا محفوظ رکھا گیا ہے اور مامون قرار دیا گیا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت نہیں ہے جو احمدی دلوں کو جلا سکے۔اس کا دوسرا ایک پس منظر ہے وہ بھی میں جماعت کے سامنے کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔وہ پس منظر سیاسی پس منظر ہے۔جماعت احمد یہ پاکستان میں اس وقت بلیک میلنگ کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔آہستہ آہستہ اس ملک میں اخلاقی قدروں کی بھی قیمت اُٹھتی چلی جارہی ہے۔ہر نیکی کا تصور وہاں معدوم ہوتا چلا جارہا ہے، ظلم اور سفا کی بڑھ رہے ہیں۔اس حد تک بداخلاقی کی حالت ہے کہ چند دن ہوئے اخبار میں یہ دردناک خبر شائع ہوئی کہ شب برأت کے موقع پر فیصل آباد جو اس وقت جماعت کی مخالفت میں پیش پیش شہروں میں سے ہے۔فیصل آباد میں لوگوں نے بھنگڑے ڈال کے اور ناچ کر کے اور نہایت ہی خلاف اسلام حرکتیں کر کے یہاں تک کہ شرا ہیں پی کے شب برأت منائی۔یہ اس ملک کا حال ہو چکا ہے بد قسمتی سے۔کراچی شہر جلتا ہے، بار بار جلتا چلا جاتا ہے۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے گلے بھی کاٹتا ہے بلکہ زندہ آگ میں جلا دیتا ہے۔حیدر آباد میں جو واقعات بار بار رونما ہو رہے ہیں اور پاکستان کے شہروں اور گلیوں سے جس طرح امن اُٹھ رہے ہیں بچے اغواء ہورہے ہیں ہر قسم کے مظالم کو وہاں کھلی چھٹی ہے لیکن کوئی چیز اتنی ارزاں نہیں جتنی احمدی کی دولت ، احمدی کا مال، احمدی کی جان اور احمدی جسم ارزاں ہیں۔جب احمدی کا