خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 19

خطبات طاہر جلد ۸ 19 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء جگر کا ٹکڑا کہا اس کو ، پاک شکل، پاک خو۔ویسے بھی روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ بہت پیارا تھا لیکن جب خدا نے بُلا لیا دل کی آخری آواز یہ تھی کہ بُلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر (در متین صفحه : ۱۰۰) پس وہ غناء جو اللہ کے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ چیزوں سے پیار نہیں رہتا۔اس کا مطلب ہے کہ چیزوں سے پیار تو رہتا ہے لیکن ان کی جدائی محسوس نہیں ہوتی یعنی اس حد تک محسوس نہیں ہوتی جیسے ایسے انسان کو جو ان چیزوں پر انحصار کرنے لگ جاتا ہے۔پس اس مضمون کو مزید کھولنے کی خاطر میں یہ مثال دیتا ہوں کہ آپ لوگ جو جمعہ میں بیٹھتے ہیں بعض دفعہ گرمیوں میں ایسی دو پہر کے وقت جمعہ ہورہا ہوتا ہے کہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے بعض لوگ کھانا کھا کر آتے ہیں تو کافی نیند کی مستی چڑھ جاتی ہے اور جمعہ میں لوگ اکثر جڑ کے بیٹھتے ہیں اکثر۔اگر کوئی انسان جاگا ہوا ہے تو اس کے ساتھ جڑا ہوا انسان اپنے کندھے کو ایک طرف ہٹالے تو اس جاگے ہوئے انسان کو کچھ بھی نہیں ہو گا۔شاید وہ کچھ تھوڑی سی کشادگی محسوس کرے لیکن نقصان کو ئی نہیں لیکن اگر اس وقت وہ سو چکا ہے اور اچانک وہ کندھا ہٹائے تو ایسا شخص گر جاتا ہے اور بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے کہ بچے بعض دفعہ شرارت سے ساتھ کے بچے کو جو سوچ کا ہو گرانے کی خاطر ایک دم اپنا کندھا پیچھے کر لیتے ہیں۔تو غناء آپ کو گرنے سے بچاتی ہے، آپ کو وہ زندگی کا شعور بخشتی ہے جو آپ میں اور ایک سوئے ہوئے غفلت کی حالت میں زندہ رہنے والے انسان میں فرق کر دیتی ہے۔آپ سے دنیا کی چیزیں جتنی بھی ہوں وہ اپنا تعلق تو ڑتی ہیں تو آپ کو بے سہارا نہیں چھوڑ دیتیں کیونکہ آپ کا سہارا خدا کی ذات پر ہوتا ہے۔یہ ہے غناء جو دراصل قناعت کے بعد پیدا ہوتی ہے۔جو شخص قانع نہیں ہے اس کو غناء کا کچھ علم نہیں۔پہلے قانع ہونا ضروری ہے پھر قناعت میں معرفت حاصل ہونے کے نتیجے میں کچی غناء حاصل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق غناء کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس مضمون کو جب ہم خدا کی ذات میں جاری ہوتا ہوا دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے ہ اللہ تعالیٰ حقیقی غنی ہے اس کے سوا دراصل کوئی غنی نہیں۔اسی وجہ سے میں نے غناء کے لفظ کے ساتھ بار بار یہ کہا کہ خدا کے تعلق کی بنا پر غناء