خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 18

خطبات طاہر جلد ۸ 18 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء خاص جذبے کے تابع جس کا ایک گہرا خدا سے تعلق ہے یہ ہے فرارالی اللہ۔اس ضمن میں میں نے ایک مثال پیش کی تھی کہ کس طرح حرص کو قناعت میں تبدیل کرنا فرار الی اللہ ہوتا ہے۔اس ضمن میں بعض اور صفات کا بھی ذکر آیا۔اس میں سے ایک غناء اسی طرح تنبل کا ذکر بھی آیا یعنی اپنے آپ کو دوسری چیزوں سے منقطع کر کے اللہ کی طرف تبتل اختیار کرنا۔اب میں اس مضمون کے اس حصے پر نسبتاً زیادہ روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔قناعت کا مضمون بہت عمدہ ہے لیکن قناعت کی ترقی یافتہ صورت غناء ہے۔قناعت اپنی ذات میں کافی نہیں اور قناعت اور غناء میں فرق دکھانے کے لئے میں یہ مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک انسان کے پاس جو کچھ ہے اگر وہ اس پر راضی ہے اور باہر کی طرف جو کچھ اس کے پاس نہیں ہے ان سمتوں میں اتنے حرص کے ساتھ نہیں دیکھتا کہ گویا ان چیزوں کے بغیر اس کی زندگی اجیرن ہو جائے گی تو یہ قناعت ہے لیکن بعض دفعہ ایک قانع آدمی ان چیزوں سے محروم ہو جاتا ہے جو اس کے پاس تھیں اور اس وقت اس کے صبر کا بھی امتحان ہوتا ہے اور اس کے قناعت کا مقام بھی پہچانا جاتا ہے۔ایسی صورت میں دو طرح کی صفات انسان کی مدد کرتی ہیں یا تو وہ صابر ہو۔قناعت کے باوجود ہاتھ میں آئی ہوئی چیز وہ چیز جس کی عادت پڑ چکی ہو اس کے ہاتھ سے نکلنے کے صدمے کو برداشت کرنے کی طاقت صبر سے حاصل ہو سکتی ہے اور اس سے اعلیٰ مرتبہ کی چیز جو قناعت کی ترقی یافتہ صورت ہے وہ غناء ہے یعنی چیزوں سے تعلق تو ہے لیکن ان کے بغیر بے قراری اتنی نہیں بڑھتی کہ گویا انسان کی زندگی اجیرن ہو جائے۔پس غناء کا مطلب یہ نہیں کہ چیزوں سے تعلق نہیں ہوتا۔غناء کا مطلب یہ ہے کہ چیزوں سے تعلق ہے تو سہی لیکن ان کے بغیر انسان کا نقصان نہیں ہوتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مرزا مبارک احمد سے بہت پیار تھا۔آپ کے بچوں میں سب سے چھوٹے تھے یعنی لڑکوں میں سب سے چھوٹے تھے اور بہت ہی آپ کو پیارے تھے چنانچہ ان کی وفات پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اشعار کہے ان سے پتہ چلتا ہے کہ کتنی گہری محبت تھی ان سے جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر