خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 234 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 234

خطبات طاہر جلد ۸ 234 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء میں گزرنے والی روز مرہ کی داستانیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت میں تو یہ داستانیں اس کثرت سے تھیں کہ چھوٹے چھوٹے بچوں پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کچی رویا ظاہر ہوتی تھی ، سچی رؤیا ان کو دکھائی جاتی تھی اور جیسا کہ محاورہ ہے بچے نبوت کرتے تھے۔یعنی اللہ تعالیٰ سے خبریں پا کر آگے بیان کیا کرتے تھے۔تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔دشمن کو بھی اس تفصیل کا تو علم نہیں لیکن کامیابی کے سو سال گزرنے کی اتنی تکلیف ہے، اتنی تکلیف ہے کہ نہ خدا کے فضلوں کا تصور کر سکتے ہیں نہ دشمن کی تکلیف کا تصور کر سکتے ہیں اور یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ، ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے زمانے میں بھی کلام الہی میں یہ بتایا گیا کہ تم کیا با تیں کر رہے ہو اپنی تکلیفوں کا تمہیں احساس ہے یہ نہیں سوچتے کہ دشمن کسی تکلیف میں مبتلا ہے۔اس کو تو آگ لگی ہوئی ہے اور تمہاری کامیابیوں کی وجہ سے آگ لگی ہوئی ہے۔تمہیں دکھ دے دے کر بھی اس کی وہ آگ نہیں بجھتی اور ایک جہنم ہے جو ہر هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ (ق: ۳۱) اس کا مطالبہ کرتی چلی جارہی ہے۔پس وہ آگ جو ۵۶۳ پر اگلی گئی یا ننکانہ کے معصوم احمدیوں کے گھروں پر برسائی گئی۔یہ تو پتا کریں کہ وہ آگ آئی کہاں سے تھی ان کے دلوں سے نکلی ہے، ان کے دلوں سے نکل کر ان گھروں پر لپکی ہے۔اس نے ہماری جائیدادوں کے ظاہر کو تو جلایا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک بھی احمدی نہیں ہے جس کے دل پر وہ آگ لپک سکی ہو۔دلوں سے کھولتی ہوئی اگلی ہے جیسے لا وہ اُگل پڑتا ہے اور ہمارے گھروں کے ، ہماری جائیدادوں کے، ہمارے بعض جسموں کے ظاہر کو تو اس نے جلایا لیکن دلوں پر حملہ کرنے کی اس کو توفیق نہیں دی گئی۔دل اس آگ سے مامون اور محفوظ ہیں کیونکہ جن دلوں میں خدا کی محبت ہے اور خدا کا پیار ہے اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی ہے ان کو کوئی دنیا کی آگ جلا نہیں سکتی لیکن ان کو میں یہ مطلع ضرور کرتا ہوں کہ ایک اور آگ ہے جس کا خدا تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور وہ دلوں پر لپکتی ہے۔وہ انسان کی بنائی ہوئی آگ نہیں ہے جیسا کہ تم نے بنائی تھی۔وہ خدا کی آگ ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَلِعُ عَلَى الْآفَبِدَةِ ( الهمزه: ۸۰۷) خبر دار ہم تمہیں ایک ایسی آگ سے ڈراتے ہیں جو خدا نے تیار کی ہے اور وہ جسموں پر نہیں وہ دلوں پر لپکتی ہے اور دلوں کو خاکستر کر دیا کرتی ہے۔پہلے بھی تم اسی آگ میں جل رہے ہواب اور بھی زیادہ اپنے لئے اس آگ کو بھڑکانے کے مزید سامان کر رہے ہو۔اس لئے وہ لوگ جو نادانی