خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 233
خطبات طاہر جلد ۸ 233 خطبه جمعه ۱۴ را پریل ۱۹۸۹ء ضرورت پیش نہیں آئی نہ کبھی آئے گی کہ میں جماعت کو کسی واقعہ کے بیان کے بعد مشتعل کرنے کی کوشش کروں، ان میں ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کروں۔میرا کام ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو ڈاکٹر جسم کے ماؤف حصے کے لئے کرتا ہے کہ ایسے جسم کے ماؤف حصے کے لئے جس میں زندگی کی ساری قوتیں پائی جاتی ہیں۔وہ بجائے اس کے کہ اس کو گرم کرے اس کو ٹھنڈا کرتا ہے۔اسے سمجھاتا ہے، اس کو توازن دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہارا یہ رد عمل مزید تکلیف کا موجب نہ بن جائے۔پس اس پہلو سے جب ایک احمدی کا گھر جلا تو ساری جماعت اپنے گھر جلوانے کے لئے تیار بیٹھی ہے کوئی پیٹھ دکھا کر نہیں جا رہا۔مجھے ان کو سمجھانا پڑ رہا ہے کہ اپنے رد عمل کو تو ازن بخشو اور اپنے جوش نکالنے کی خاطر دوسروں کو تکلیف میں مبتلا نہ کرو۔اس پہلو سے جو بھی آخری فیصلہ ہوگا وہ تو خوب غور اور فکر کے بعد اور مشوروں کے بعد ہو گا کہ جماعت کو آئندہ کیا ردعمل دکھانا ہے؟ لیکن یہ تو بہر حال قطعی بات ہے کہ ہمارا رد عمل قرآنی تعلیم کے تابع ہوگا اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ کی روشنی میں ڈھالا جائے گا۔اب میں اس کا کچھ اور پس منظر اس واقعہ کا آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔یہ کوئی اتفاقی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے ایک سو سال تک بے انتہاء فضلوں سے نوازا ہے۔اتنے کرم فرمائے ہیں ایسی رحمتوں کی بارشیں برسائی ہیں کہ ہم ان قطروں کو گنے کا کیا سوال ان کے شکر کے عمومی تصور سے بھی قاصر ہیں یعنی جس رنگ میں شکر ادا ہونا چاہئے اس کا حقیقت میں حق ادا کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ اس کے تصور سے بھی ہم قاصر ہیں کہ کس حد تک خدا نے ہم پر فضل نازل فرمائے ہیں اور ہم کس طرح شکر ادا کریں۔جیسا کہ میں نے اپنے پہلے خطبے میں بیان کیا تھا میں جب اس کی تفصیلات پر غور کرتا ہوں تو محض ایک بڑے بیان کے طور پر نہیں کہ اونچی آواز میں اونچا دعوی کر دیا جائے بلکہ جب میں تفاصیل پر غور کرتا ہوں تو کلیۂ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے تصور سے مغلوب ہو جاتا ہوں۔نہ بیان کی طاقت رہتی ہے نہ تفصیل سے ان کو سوچنے کی استطاعت رہتی ہے۔اس لئے جہاں تک خدا کے فضلوں کا تعلق ہے جماعت احمد یہ بھی پوری طرح ان سے شناسا نہیں ہے۔انفرادی طور پر احمدیوں کی زندگی میں کس طرح بار بار اللہ نے فضل فرمائے ہیں اور روز مرہ کی عام زندگیوں میں کیسی غلطیوں سے ان کو بچایا، کیسی غلطیوں کی پاداش سے محفوظ رکھا اور کیسی کیسی مصیبت کے وقتوں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کے کام آئی۔یہ تو ہر احمدی گھر