خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 231

خطبات طاہر جلد ۸ 231 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء صلى الله پھر جو واقعہ اس کے بعد نکانہ صاحب میں ہوا ہے اس میں اب جو تازہ تفصیل آئی ہے اس کے مطابق یہ بات قابل توجہ ہے جو غالباً پہلے آپ کے علم میں نہیں کہ ڈی ایس پی اسلم لودھی صاحب پولیس کی سرکردگی میں خود عوام کو ساتھ لے کر آ گئیں لگوا رہے تھے اور ایک طرف اے سی صاحب بھی اسی شغل میں مصروف تھے اور بعض دفعہ وہ خود سامان نکال کے پولیس والے ان کو پکڑ اتے تھے کہ یہ چیز رہ گئی ہے اس کو بھی ڈھیری میں ڈالو اور آگ لگاؤ۔جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے میں نے پہلے بھی بار ہا توجہ دلائی ہے کہ ایسی باتوں کو سن کر عموماً اپنی قوم کے خلاف اپنے جذبات کو بے لگام نہیں ہونے دینا چاہئے۔امت محمدیہ میں بدقسمتی سے بہت سی کمزوریاں آگئی ہیں لیکن حضرت محمد مصطفی ﷺ کا نام ایسا بابرکت ہے وہ کلام جو آپ پر نازل ہوا وہ ایسا بابرکت ہے کہ گئے گزرے مسلمان بھی جو بے عمل ہو چکے ہوں ان کے اندر بھی شرافت کی بہت سی ایسی قدریں باقی ہیں جو دیگر قوموں میں بہت شاز دکھائی دیتی ہیں۔اشتعال کی حالت میں دیگر قوموں میں عورتوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالے جاتے ہیں اور بہت سی بے حیائیوں کی باتیں کی جاتی ہیں اور انسان گرکر بہیمانہ سطح پر اتر کر ان کو بھی شرمندہ کر دیتا ہے یعنی جو جنگل کے جانور ہیں ان سے بھی آگے گزر جاتا ہے لیکن امت محمدیہ ﷺ پر قرآن کی تعلیم کا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیم کا یہ فیض ہے کہ سخت اشتعال کی حالت میں بھی انسانی شرافت کی بنیادی قدریں اکثر لوگوں میں زندہ رہتی ہیں اور بعض لوگ جو ملائیت سے مغلوب ہو چکے ہیں ان کے متعلق تو خود حضور اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ شــر مــن تــحــت اديــم السـمـاء ( مشکوۃ کتاب العلم الفضل صفحہ ۳۸) اس لئے ان پر یہ استثناء صادق نہیں آتا لیکن وہاں کی رپورٹوں سے یہ پتا چلا ہے کہ ہمسایوں نے اور دیگر محلہ داروں نے اس موقع پر انسانی شرافت کا سلوک کیا۔ان کو سہارا دیا وقتی طور پر ان کی روزہ کشائی کے لئے سامان مہیا کئے۔جہاں تک ننکانہ صاحب کی جماعت کا تعلق ہے یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے عظیم کردار سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا سر بلند رکھا ہے۔کوئی بھاگ کر کہیں نہیں گیا۔اپنے جلے ہوئے مکانوں میں ، اپنے بچوں کو لے کر وہیں بیٹھ ر ہے اور کلیہ دشمن کی اس کوشش کو رد کر دیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی بزدلی دیکھیں اور ان کو اپنے منہدم مکانوں اور جلے ہوئے مسکنوں سے اجاڑ کر باہر نکال دیں۔انہی جگہوں پہ اُسی جگہ وہ بیٹھ رہے اور جیسا کہ میں نے جماعت کو ان حالات میں تلقین