خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد ۸ 230 خطبه جمعه ۱۴ راپریل ۱۹۸۹ء چند دن پہلے صبح نماز فجر کے بعد تلاوت کے دوران جب میں ایک آیت کے اس ٹکڑے پر پہنچا قَالُوا إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ (البقره: ۱۵۷) تو بڑی شدت کے ساتھ جیسے ایک خیال میخ کی طرح دل میں گڑھ جائے۔یہ القاء ہوا کہ کوئی ایسی خبر پہنچنے والی ہے جس کے نتیجے میں مجھے خدا نے تلقین فرمائی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلاموں کا اسوہ اختیار کرتے ہوئے اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ پڑھوں اور اس کے مضمون کی طرف متوجہ ہوں۔چنانچہ اسی رات عبدالباقی ارشد صاحب کے ذریعے شیخو پورہ سے وہ اطلاع ملی جس میں بتایا گیا کہ ایک واقعہ ایسا ہوا جس کے نتیجے میں چک ۶۳ ۵ گ ب تحصیل جڑانوالہ میں دشمنان احمدیت نے احمدی گھروں پر حملہ کیا ، اُن کولوٹا ، أن کو آگیں لگا ئیں اور اس کے بعد ان کا ارادہ نکانہ صاحب میں بھی اسی قسم کی کارروائیاں کرنے کا ہے۔دو دن کے بعد پھر وہ ننکانہ صاحب کی اطلاع مکرم چوہدری انور حسین صاحب نے دی جس کی تفصیل آپ کو معلوم ہو چکی ہے۔سوائے تین گھروں کے جن کا شریروں کو علم نہیں ہو سکا باقی تمام گھروں کو یا آگ لگا دی گئی یا ان کے سامان نکال کر لوٹ لئے گئے اور آگ لگادی گئی اور یا منہدم کر دئے گئے۔مسجد کو بھی منہدم کر دیا گیا اور آگ لگائی گئی اور مسجد کے ساتھ جو مسجد کے خادم کا کوارٹر تھا اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔آگ لگانے کے وقت انہوں نے یہ احتیاط کی کہ دوسرا لٹریچر اور دوسرا سامان ایک طرف ڈھیری کر کے اس کو آگ لگاتے تھے اور قرآن کریم کو الگ ڈھیری کر کے اس کو آگ لگاتے تھے۔اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے یعنی ایک فوری جو ظاہری پس منظر ہے وہ یہ ہے کہ چک ۶۳ ۵گ ب میں معلم نے مسجد کی صفائی کی غالبا رمضان کے خیال سے اور جو پرانے کاغذات ایسے تھے جن کی ضرورت نہیں تھی ان کو تلف کرنے کی خاطر ایک جگہ ڈھیری کر کے ان کو آگ لگائی۔وہاں ایک ایسا شخص جس کے والد احمدی ہو چکے ہیں اور وہ اپنے والد کے احمدی ہونے کے نتیجے میں بڑا مشتعل تھا وہ پہنچا اس نے ان سے پوچھا انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ ہے۔اس نے اسی وقت واویلا مچا دیا اور سارے گاؤں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ احمدی قرآن کریم کو آگ لگا رہے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اس گاؤں سے نہیں بلکہ ننکانہ صاحب ہی سے چند پیشہ ور اس مزاج کے اس کماش کے لوگوں کو اکٹھا کر کے اور بعض دوسرے دیہات سے باقاعدہ گاؤں پر حملہ کیا گیا اور ایک چھوٹی سی قیامت صغریٰ وہاں ٹوٹ پڑی۔