خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 225

خطبات طاہر جلد ۸ 225 خطبہ جمعہ ۷ ۱۷اپریل ۱۹۸۹ء آپ اندازہ کریں کہ کتنی ذمہ داریاں ہماری وسیع ہو جاتی ہیں اور خصوصیت کے ساتھ نوافل کی ادائیگی کی طرف غیر معمولی توجہ کی ضرورت سامنے آتی ہے۔تب ہی میں نے گزشتہ رمضان میں احمدی خواتین کو نصیحت کی تھی کہ اپنے بچوں کو صرف روزے کی عادت نہ ڈالیں بلکہ سحری کھانے سے پہلے نوافل کی عادت ڈالیں اور مجھے معلوم ہوا بعض ماؤں کی طرف سے اطلاع ملی ، بعض بچوں کی طرف سے یہ ملی کہ ہمیں بڑا مزا آیا ہم نے نوافل شروع کر دیئے ہیں۔مگر بالعموم میرا یہ تاثر ہے کہ مغربی دنیا میں جواحدی خاندان بس رہے ہیں ان میں بچوں کو تہجد کی عادت نہیں ڈالی جاتی اور رمضان شریف یہ نعمت لے کر ہمارے سامنے آتا ہے۔بہت ہی اچھا موقع پیش کرتا ہے۔رمضان شریف میں جو ہم سیکھتے ہیں اس میں سے کچھ حصہ باقی سارا سال پر بھی حاوی ہو جانا چاہئے۔اس طرح منزل بہ منزل رمضان شریف ہمارا معیار بلند کرتا چلا جاتا ہے۔یہ وہ خصوصیت کے ساتھ نصیحت ہے جسے آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔پس کل جب ہم رمضان میں داخل ہوں گے جن احمدی ماؤں تک میری آواز پہنچی ہے یا والدین تک یا بچوں تک براہ راست پہنچی ہے وہ خصوصیت کے ساتھ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ ایک بھی احمدی دنیا میں ایسا نہ ہو جس کو رمضان شریف میں تہجد کی عادت نہ ہو۔بعض لوگ اپنی مرضی کی بات تو قبول کر لیتے ہیں اور جو ذرا مشکل ہو یا مرضی سے باہر ہو وہ ان کو سنائی نہیں دیتی۔رمضان میں اصل میں سحری کھانا رمضان نہیں ہے بلکہ سحری سے پہلے روحانی غذاء کھانا یعنی نفل پڑھنا اصل رمضان ہے لیکن سحری کے متعلق بھی ہدایت ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو اس میں برکت ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک بوڑھیا عورت کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ با قاعدگی کے ساتھ اُٹھ کر سحری کھایا کرتی تھی اور روزہ کوئی نہیں رکھتی تھی تو اس سے کسی نے پوچھا کہ بی بی تم یہ سحری کھانے اٹھتی ہو روزہ بھی رکھ لیا کرو۔کہنے لگی روزہ تو مجھ سے رکھا نہیں جاتا مگر سحری نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں کچھ تو برکت لینے دو مجھے لیکن اصل برکت سحری کھانے میں نہیں ہے۔اصل برکت ان نوافل میں ہے جو رات کے وقت اٹھ کر خدا کے حضور انسان کھڑے ہو کر ادا کرتا ہے اور ان کا روزمرہ کی زندگی سے ایسا تعلق نہیں کہ ان کے بغیر انسان روحانی طور پر زندہ نہ رہ سکے۔وہ محض خدا کی خاطر ہوتے ہیں۔پانچ وقت کی نمازیں جو ہیں وہ بنی نوع انسان کے معاشرے، اس کے اخلاق ، اس کی دینی صحت کی