خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۸ 226 خطبہ جمعہ ۷ ۷ اپریل ۱۹۸۹ء حفاظت کے لئے اس حد تک ضروری ہیں کہ اگر وہ نہیں کرے گا تو اپنے لئے کوئی روحانی بیماری مول لے لے گا۔کسی عارضے میں مبتلا ہو جائے گا، کوئی کمزوری پیدا ہوگی اس کے نتیجے میں۔مگر اگر نفل نہ پڑھے تہجد کے وقت تو اس قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اگر پڑھے تو غیر معمولی فوائد ہیں۔وہ فوائد کیا ہیں رمضان مبارک سے تعلق رکھنے والے؟ ان کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں کہ رمضان کے علاوہ روزے کے علاوہ جتنی نیکیاں انسان کرتا ہے اس کی جزائیں مقرر ہیں اور اس کے بدلے اس کو دیئے جاتے ہیں لیکن چونکہ میری خاطر رمضان سے گزرتا ہے اور روزے رکھتا ہے اس لئے رمضان کی نیکیوں کی جزا میں ہوں۔کتنا عظیم الشان فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا کے حضور مناجات میں عرض کرتے ہیں۔و آنچه می خواهم از تو توئی۔اے میرے آقا مجھے تو اور کسی ثواب کی حاجت نہیں ہے۔و آز چھہ می خواهم از تو تولی کہ میں تو جو تجھ سے چاہتا ہوں تو ہی ہے تو میرا ہو جا۔پس جو شخص قرآن کے اعلیٰ مطالب کو پالیتا ہے اس کی نظر اس بات پر ہوتی ہے کہ میرا اجر خدا ہواور خدا اجر بنانے کے لئے روزے رکھنا اور رمضان میں سے اس کے تمام فرائض اور نوافل کا خیال رکھتے ہوئے ان کا حق ادا کرتے ہوئے اس سے گزرنا یہ ضروری ہے۔اس کے بغیر خدا جزا نہیں بنا کرتا۔پس جب آپ رمضان سے اس طرح گزریں کہ خدا آپ کو مل جائے تو یہ وہ رمضان ہے جو سچا رمضان ہے۔اگر رمضان سے اس طرح گزر جائیں کہ خدا کو پائے بغیر پھر دوبارہ عام مہینوں میں داخل ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے رمضان دیکھا ہی نہیں۔فَمَنْ شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ جو شخص تم میں سے رمضان کو دیکھتا ہے وہ روزے رکھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے روزے رکھے جس کی جزا میں ہوں۔یعنی آنحضرت علیہ کے ارشاد کے مطابق۔پس یہ وہ آخری فیصلہ کن مرحلہ ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ہر رمضان سے گزرنے کے بعد آپ کو خصوصیت کے ساتھ اپنے سامنے یہ سوال اٹھانا چاہئے کہ کیا یہ رمضان جس طرح آپ نے گزارا اس کی جزا خدا تعالیٰ ہے؟ کیا میں نے محسوس کیا ہے کہ اس رمضان کے بعد خدا میرا ہو گیا ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ملتا ہے اور انکسار کے طور پر آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کچھ محسوس ہوتا ہے۔میں نہیں کہ سکتا یقینا کہ خدا میرا ہو گیا لیکن مجھے لگتا ہے کہ خدا میرا ہورہا ہے