خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد ۸ 224 خطبہ جمعہ ۷ اپریل ۱۹۸۹ء روشن نشانات اور فرقان جو کھوٹے کھرے میں اور ظلمات اور روشنی میں تمیز کرنے والی چیزیں ہیں وہ ساری نصیب ہو سکتی ہیں۔پس وہ لوگ جو عام حالات میں گیارہ مہینوں میں صرف پہلی منزل پا سکتے ہیں یعنی هُدًى لِلنَّاسِ کی منزل - رمضان مبارک ان کو آگے بڑھا کر بَيْتٍ مِّنَ الْهُدی اور پھر اس سے آگے بڑھ کر فرقان کے عظیم الشان مراتب بھی عطا فرماتا ہے۔پس اس مہینے کی اس پہلو سے غیر معمولی قدر کی ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ عام طور پر لوگ اس قدر اس مہینے کی قدر نہیں کرتے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ محض بھوک پیاس کو برداشت کر لینا اور کچھ دیر کے لئے کھانے پینے سے رک جانا یہی رمضان ہے۔یہ رمضان نہیں ہے یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔رمضان قرآن کریم ہے۔قرآن کریم کی ساری تعلیمات ہیں۔چھوٹی تعلیمات بھی اور بڑی تعلیمات بھی معمولی نظر آنے والی بھی اور نہایت اعلیٰ درجے کی بھی ، فرضی تعلیمات بھی اور نوافل کی تعلیمات بھی اس لئے ان تعلیمات میں خصوصیت کے ساتھ رمضان میں عمل کرنا جن کو انسان عام حالات میں ترک کر دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں ان کے بغیر زندہ نہیں رہوں گا یہ ہے رمضان۔اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ اگر چہ آپ گیارہ مہینے بھی رمضان کے علاوہ بھی ہمیشہ بے حدسخی ہوتے تھے، بے حد غرباء کی خدمت کرنے والے اور ضرورتمندوں کی ضرورتیں پوری کرنے والے، محتاجوں پر رحم اور شفقت کرنے والے اور کثرت کے ساتھ ضرورت مندوں کو عطا کرنے والے ہوتے تھے مگر رمضان کے متعلق راوی بیان کرتے ہیں کہ یوں لگتا تھا جس طرح آندھی چل پڑی ہے۔آنحضرت ﷺ کی خیرات کی رفتار میں رمضان میں داخل ہو کر اتنی تیزی پیدا ہو جاتی تھی جیسے سبک رفتار ہوا چل رہی ہو وہ ایک دم آندھی میں بدل جائے۔یہ وہ فرق ہے جس کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت ہمیں متوجہ کر رہی ہے کہ رمضان گویا قرآن کا متبادل ہے۔یوں تمہیں رمضان میں سے گزرنا چاہئے گویا سارے قرآن میں سے گزر گئے ہو۔گویا قرآن کریم اسی مہینے کی خاطر نازل ہوا۔قرآن کی ساری تعلیمات پر اس مہینے میں عمل کرنے کی کوشش کر لو کیونکہ عام مہینوں میں شاید تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہوگا۔پس اگر قرآن کریم کی ساری تعلیمات پر اس ایک مہینے میں عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے تو