خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 218
خطبات طاہر جلد ۸ 218 خطبہ جمعہ ۷ اپریل ۱۹۸۹ء ہوتی، معمولی سی چیز بھی ادنی تو لفظ اس شان کے اوپر اطلاق ہونا ہی نہیں چاہئے۔ایک چھوٹی سی چیز جسے ہم بظاہر چھوٹی دیکھتے ہیں وہ بھی ہمیں ایسی دکھائی نہیں دیتی جس کو ترک کرنے کے نتیجے میں بنی نوع انسان کو کوئی نقصان نہ پہنچ رہا ہو۔پس بنی نوع انسان کی جنت شریعت کی حدود میں رہنا اور اس پر عمل کرنا ہے اور جس وقت یہ جنت اختیار کر لی جائے (لازم تو ہو جاتی ہے شریعت کے ذریعے جب یہ اختیار کر لی جاتی ہے ) تو بنی نوع انسان کی سوسائٹی جنت بن جاتی ہے اور جنت نشان ہو جاتی ہے۔پس وہ لوگ جو اپنے لئے اس دنیا میں جنتیں پیدا کرتے ہیں یقیناً خدا تعالیٰ ان کے لئے اسی جنت کے مشابہ لیکن اس سے بہت بہتر مُتَشَابِهًا کا لفظ کو پیش نظر رکھ کر میں یہ بات بیان کر رہا ہوں۔اس جنت سے مشابہ لیکن اس سے بہت بہتر اخروی زندگی میں جنت کا سامان مہیا فرماتا ہے اور ان کے لئے جنت پیدا کر دیتا ہے۔یہ تو مضمون ہے عام احکامات سے تعلق رکھنے والا۔روزے میں وہ خاص کیا بات ہے جو اس کے علاوہ ہے؟ چنانچہ جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ساری چیزیں جو روز مرہ کی زندگی میں انسان کے لئے جائز ہیں اور ان کو چھوڑنے کا حکم نہیں ہے وہ ساری چیزیں رمضان شریف میں خدا کی خاطر چھوڑی جاتی ہیں۔یعنی اگر وہ نہ بھی چھوڑی جائیں تو بنی نوع انسان کو ان کے انفرادی لحاظ سے یا اجتماعی لحاظ سے اور باہمی معاملات کے لحاظ سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا مثلاً قرآن کریم فرماتا ہے كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا (الاعراف :۳۲) کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔اگر رمضان نہ بھی ہوتا اور انسان اس تعلیم کے علاوہ اس کے بغیر بھی كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا پر عمل درآمد کرتے رہتے تو انسانوں کے لئے کوئی نقصان نہیں تھا۔کیونکہ اسراف کے نہ کر کے یعنی اعتدال کے اندر رہتے ہوئے انسان کھائے اور پینے اس کے فائدے کی چیز ہے۔تو رمضان میں جو چیز اس نے چھوڑی وہ اپنی خاطر نہیں چھوڑی۔وَلَا تُسْرِفُوا کے تابع جو چیز اس نے چھوڑی وہ اپنی خاطر چھوڑی تھی مثلاً کھانا کھاتے کھاتے حد اعتدال سے گزر کر جو چیز وہ کھاتا ہے وہ اس کے لئے نقصان دہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کھاؤ پیچ درست ہے لیکن حد اعتدال سے نہ گزرو۔جب وہ ایک مقام پر آ کر اپنے ہاتھ روک لیتا ہے مثلاً آنحضرت علیہ نے فرمایا کہ مومن کو چاہئے کہ جب وہ کھائے تو بھوک تھوڑی سی رکھ کر کھانا چھوڑ دے۔اس حد تک نہ کھاتا