خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 17
خطبات طاہر جلد ۸ 17 خطبه جمعه ۱۳/جنوری ۱۹۸۹ء فرار الی اللہ اور تبتل اختیار کرنے کا حقیقی مفہوم ( خطبه جمعه فرموده ۱۳ جنوری ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: گزشتہ خطبہ سے پہلے دو خطبوں میں یا تین خطبوں میں میں فرار الی اللہ کا مضمون بیان کر رہا تھا۔یعنی قرآن کریم نے جو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ فَفِرُّوا إِلَى اللهِ (الذریت :۵۱) اللہ کی طرف دوڑ و تو یہ فرار الی اللہ یعنی خدا کی طرف دوڑنا کیا معنی رکھتا ہے۔اس ضمن میں میں نے یہ بات خوب کھول کر بیان کی کہ اللہ کی طرف بھاگنے سے مراد یہ ہے کہ بعض بُری صفات کو چھوڑ کر بعض اچھی صفات اختیار کرنا، غیر اللہ کے رنگ چھوڑ کر اللہ کے رنگ اختیار کرنا اور اس کے سوا خدا کی طرف دوڑنے کے اور کوئی معنی نہیں۔خدا تعالیٰ کو پکارنا اور بات ہے اور خدا کی طرف دوڑنا اور بات ہے۔ایک انسان مصائب میں جکڑا ہوا خدا کو پکا تو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ خدا کی طرف دوڑ رہا ہو۔بعض دفعہ انسان ایسے دشمن کے گھیرے میں آجاتا ہے کہ وہ نجات دہندہ کا تصور کر کے اس کو بلاتا تو ہے لیکن اس کی طرف جانے کی استطاعت نہیں رکھتا تو مضطر کی دعا کا مضمون اور ہے اور فَفِرُّوا إِلَى الله کا مضمون اور ہے۔فَفِرُّوا اِلَی اللہ کا مضمون امن کی حالت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ابھی دشمن نے انسان کو گھیرے میں نہیں لیا اور ہر طرف سے اسے خوف محسوس ہوتا ہے اور جوں جوں خوف کا شعور بڑھتا چلا جاتا ہے، جوں جوں گناہوں کی ماہیت کا زیادہ علم ہوتا چلا جاتا ہے انسان ہر خوف کے مقام سے امن کے مقام کی طرف یعنی خدا کی طرف دوڑ نے لگتا ہے۔تو بدیوں کو ترک کرنا اور نیکیوں کی طرف جانا محض ایک ظاہری دنیاوی کوشش کے طور پر نہیں بلکہ ایک