خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 209
خطبات طاہر جلد ۸ 209 خطبہ جمعہ ۳۱ / مارچ ۱۹۸۹ء ضرورت ہے۔پس وہ سب تیاریاں مکمل ہیں جن کی آپ کو ضرورت ہے۔ایسا لٹریچر بھی موجود ہے جو غیر معمولی طور پر وسعت کے ساتھ نئے زمانوں کے مسائل کو حل کرنے والا ہے۔بڑی بڑی علمی کتابیں انگریزی زبان میں موجود ہیں، تفاسیر موجود ہیں۔اس لئے کام تو بہت کرنے والے ہیں اور کام کرنے کے لئے اوزار بھی مہیا ہیں ، ہتھیار بھی دستیاب ہیں۔صرف آپ لوگوں کو اپنی ہمت جوان کرنے کی ضرورت ہے، عزم بلند کرنے کی ضرورت ہے، نیک ارادے باندھنے کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت دعاؤں کی مدد کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت عمدگی سے پوری ہو سکتی ہے۔ایک جسکے کی بات ہے۔تبلیغ کے معاملے میں تو آغاز ہے جس میں انسان بہت دفعہ تر درد محسوس کرتا ہے لیکن ایک دفعہ جب آغاز ہو جائے تو پھر تو ایسا چسکا پڑ جاتا ہے کہ تبلیغ کرنے والا پھر اس سے باز نہیں رہ سکتا۔ابھی تین دن ہوئے ہیں ایک احمدی خاتون انگلستان کی رہنے والی ہیں جو وہاں لندن ملاقات کے لئے اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ تشریف لائی تھی تو او پر میری اہلیہ سے ملنے بھی گئیں۔ان سے باتوں باتوں میں انہوں نے پوچھا آپ کس طرح وقت گزارتی ہیں، کیا کرتی رہتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پہلے جب تبلیغ نہیں کیا کرتی تھی اس وقت تو یہ سوال ہوسکتا تھا اور واقعہ ہی یہ مسئلہ بھی تھا کہ کیسے وقت گزارا جائے لیکن جب سے یہ تبلیغ کی تحریک چلی ہے اور دعوت الی اللہ کے پروگرام چلے ہیں اس وقت سے تو مجھے ایسا مشغلہ مل گیا ہے کہ نہ مجھے بعض دفعہ خاوند کی ہوش رہتی ہے نہ بچوں کی ہوش رہتی ہے۔اتنا مزہ ہے اس کام میں انہوں نے بتایا کہ مجھے تو لت لگ گئی ہے تبلیغ کی اور اللہ کے فضل سے اس کے نیک نتائج بھی ظاہر ہورہے ہیں۔بہت سے لوگ جن کو اسلام کے متعلق کچھ بھی علم نہیں تھا اب گہری دلچسپی لینے لگ گئے ہیں۔تو آغاز کی بات ہے۔آغاز آپ کر دیں اور انجام خدا تعالیٰ کے سپردکریں اور واقعہ یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی راہ میں ایک نیک قدم اٹھاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دس قدم اٹھانے کی توفیق بخشتا ہے۔جو چل کر آگے بڑھتے ہیں ان کو دوڑنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔جو دوڑ کر جاتے ہیں ان کی رفتاروں میں نئی تیزیاں عطا کرتا ہے۔زمین پر چلنے والوں کو آسمانی پروازوں کی قوت بخشتا ہے۔تو نیکی کے کام میں آگے بڑھنا خدا ہی کے سپرد ہوا کرتا ہے لیکن پہلا قدم اٹھانا اور نیک ارادے کے ساتھ آگے قدم بڑھانا یہ انسان کا فرض ہے۔آپ کی جماعت ہر چند کہ بہت چھوٹی ہے۔ایک صحافی نے مجھ سے سوال کیا یہاں آپ کی