خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 210 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 210

خطبات طاہر جلد ۸ 210 خطبه جمعه ۳۱ / مارچ ۱۹۸۹ء جماعت کی کتنی تعداد ہے؟ تو میں نے اس کو بتایا کہ اس سے زیادہ ہیں جتنے حضرت مسیح اپنے علاقے سے الگ ہونے سے پہلے اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔یعنی وہ بارہ تھے جن میں سے دومرتد ہو گئے۔وقتی طور پر ہی سہی لیکن مرتد ضرور ہوئے تھے اور دس مخلصین باقی رہ گئے تھے۔میں نے کہا یہاں اس وقت جماعت کی تعداد آغاز کے وقت سولہ ہے۔تو وہ جو تاثر پیدا ہونا تھا تھوڑا ہونے کا وہ تو پیدا نہیں ہوا لیکن ان کے چہرے پر میں نے ایک بشاشت دیکھی اور انہوں نے اس جواب کو پسند کیا کہ ہاں آپ کے ارادے مضبوط اور بلند نظر آتے ہیں اور یہ تھوڑی سی تعداد عقلاً جو صلاحیت رکھ سکتی ہے یہ دنیا میں عظیم انقلاب بر پا کرے گی۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ یہاں کی جماعت صدسالہ جو بلی کے پروگراموں سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس خصوصی سال سے اور اس سال کے پروگراموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ کام شروع کر دے گی جو آج سے دسیوں سال پہلے تک یہاں رہنے کے باوجود وہ نہیں کر سکی۔تو اس افتتاح کو جو آج میں کر رہا ہوں اسے رسمی افتتاح نہ رہنے دیں بلکہ ایک ٹھوس اور حقیقی افتتاح بنا دیں اور ایسا ہو کہ جب میں اور میرے ساتھی دوبارہ یہاں آپ کے پاس حاضر ہوں تو مقامی طور پر ہمیں یہاں مخلصین جماعت ایسے دکھائی دیں جو آئر لینڈ کے حقیقی باشندے ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ وہ اپنی قوم میں پھر احمدیت اور اسلام کے پیغامبر بن جائیں۔اس ضمن میں باقی دنیا کی جماعتوں سے بھی میں یہ گزارش کرنی چاہتا ہوں کہ یہ سال جس کا آغاز ۲۳ مارچ کو ہوا ہے یعنی ہماری احمدیت کی دوسری صدی کا پہلا سال یہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔۲۳ / مارچ کے جشن یا چند دن کے جشن دراصل ایسے جشن نہیں ہیں جن کو منا کر ، خوش ہو کر پیچھے چھوڑ دیا جائے بلکہ یہ ایسے جشن ہیں جن کا گہرا اثر آئندہ صدی پر پڑنا ہے اور ان کا سایہ اگلی پوری صدی پر محیط ہو جانا ہے اور یہ ہیں بھی چند دن کے جشن نہیں بلکہ پورے سال کے جشن ہیں۔اس لئے یہ خیال دل سے نکال دیں کہ ۲۳ / مارچ اور اس کے ارد گرد قرب کے چند ایام ہی جشن کے ایام تھے۔ہمارا سارا کام تو اس سال پر آگے پھیلا پڑا ہے۔بے حد کام ہیں جو جماعت کو اس جشن منانے کے سلسلے میں پورے کرنے ہیں۔مثلاً لٹریچر جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک سو اٹھارہ یا کم و بیش ، ایک سوسترہ یا ایک سو انہیں اتنی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے یا ہو رہا ہے۔قرآن کریم کے