خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 200

خطبات طاہر جلد ۸ 200 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء پولیس یا ڈی ایس پی تھا اس کے ساتھ پھر کر وہ تلاشی کرواؤں۔اس زمانے میں شرافت کا معیار آج سے بہت زیادہ بلند تھا۔چنانچہ وہ ڈی ایس پی صاحب یا ایس پی صاحب مجھے اب صحیح یاد نہیں جب تشریف لائے تو بہت ہی زیادہ شرمندہ اور معذرت خواہ تھے۔بار بار یہ حضرت صاحب سے عرض کر رہے تھے کہ مجھے معاف کریں میں بالکل مجبور اور بے اختیار ہوں۔بتائیے میرا کیا گناہ ہے؟ میں تو ایک ادنی کارندہ ہوں حکومت کا اور گورنر پنجاب کا حکم ہے میں اس کو ٹال نہیں سکتا میں مجبور ہوں۔بتائیے اس کی سزا مجھے تو نہیں پہنچے گی، کیا میں بھی بد نصیب ہوں گا اس وجہ سے کہ مجھے استعمال کیا گیا ہے؟ حضرت مصلح موعودؓ یہ بات سنتے رہے اور مسکراتے رہے اور آخر آپ نے فرمایا کہ دیکھیں میں جانتا ہوں کہ آپ مجبور ہیں لیکن بعض دفعہ مجبوریوں سے بھی بد بختیاں مل جایا کرتی ہیں اور بعض دفعہ مجبوریوں سے بھی سعادتیں مل جایا کرتی ہیں۔آپ سے زیادہ وہ جوتی مجبور تھی جو ابو جہل کے قدموں میں تھی اور اسی طرح وہ جوتی مجبور تھی جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قدموں میں تھی۔آپ بتائیں کہ کیا دونوں کا ایک ہی سا نصیب تھا؟ کیا وہ جوتی منحوس اور بدنصیب نہیں تھی جو ابو جہل کے قدموں میں تھی ؟ لیکن تھی بے اختیار۔اسی طرح کتنی معزز اور کس شان کی وہ جوتی تھی جس پر میرے آقا محمد مصطفی عملے کے قدم پڑا کرتے تھے اور قدموں کے ساتھ لپٹی پھرا کرتی تھی۔اس لئے یہ خوست تو ایسی ہے جس میں میں بے اختیار ہوں میں چاہوں بھی تو اس نحوست سے آپ کو الگ نہیں کر سکتا۔ایسے لرزے وہ، اس قدر وہ خوفزدہ ہوئے کہ وہ تلاشی مجھے یاد ہے وہ جس طرح انسان سونگھتا پھرتا ہے جگہ کو تھوڑا تھوڑا سونگھا اور اس کے بعد کہا کہ بس اس سے زیادہ مجھ میں طاقت نہیں۔وہ زمانہ اور تھا شرافتوں کے معیار، تقویٰ کے معیار اور ہوا کرتے تھے اب تو ہم نے پانیوں میں بہتے بہتے ایک اور سی فضا میں سر نکالا ہے۔پس اس موقع پر اگر چہ دنیا کی اکثریت تو پاکستانی نہیں مگر میں پاکستانی ہوں اور مجھے اپنے ملک سے محبت ہے اور پیار ہے اپنے وطن سے میں مجبور ہوں اور نہیں تو میرے تعلق کی خاطر ، میری خاطر اس بدنصیب ملک کے لئے دعا کریں کہ جتنے دن باقی ہیں بدنصیبوں کے اللہ تعالی دور فرما دے۔ان رزیل اور کمینی حکومتوں کی صفیں لپیٹ دے جو صرف اسلام کے نام پر نہیں وطنیت کے نام پر بھی داغ ہیں اور انسانیت کے نام پر بھی داغ ہیں۔حماقتوں کی پوٹیں ہیں اس کے سوا ان کی کوئی حیثیت نہیں۔تمام دنیا میں ہمارے عزیز وطن کو بدنام کرنے کا موجب بن رہی ہیں۔پس