خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 197

خطبات طاہر جلد ۸ 197 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء الفاظ یہ ہیں۔ڈپٹی کمشنر صاحب لکھ رہے ہیں۔جبکہ میرے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ ضلع جھنگ میں قادیانی ۲۳ / مارچ ۱۹۸۹ء کو قادیانیت کی اپنی صد سالہ جو بلی منعقد کر رہے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے چراغاں کرنے، عمارات سجانے ، سجاوٹی گیٹ کھڑے کرنے ، پمفلٹ تقسیم کرنے ، دیواروں پر پوسٹر لگانے ، شیرینی بانٹے سپیشل کھانے ( لفظ پیش کھانے بھی خوب ہے)، بیجز کی نمائش، بینر لگانے اور جھنڈیاں وغیرہ لگانے کا انتظام کیا ہے جو کہ مسلمانوں کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے“۔(انا للہ وانا الیہ راجعون ) اب بتا ئیں اس حکم کے اوپر رونا آئے گا یا جنسی آئے گی یعنی یہ ساری چیز میں مسلمانوں کے نزد یک سخت قابل اعتراض ہیں۔آپ کا ہنسنا بعض دلوں میں آگ لگا رہا ہے۔آپ کی خوشیاں بعض سینوں میں جہنم کے سامان پیدا کر رہی ہیں۔یہ آپ کی خوشی کا موقع ہے اور آپ کے ناچنے اور گانے کے دن ہیں یا مغموم ہونے کے دن ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے اور یہی قرآن کریم کی پیشگوئی تھی کہ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ (التح۳۰۰) یہ سرسبز و شاداب کھیتیاں جو اُگائی جارہی ہیں خدا کی راہ میں انہوں نے ضرور نشو ونما پانی ہے، لہلہاتا ہے۔ان کی شاخوں نے مضبوطی اختیار کرنی ہے۔ان کے تنوں نے تنومند ہو جانا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔جتنی یہ کھیتی شاداب ہوتی چلی جائے گی اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ لِيَغِیظُ بِهِمُ الْكُفَّار اس کے نتیجے میں ان لوگوں کا انکار کرنے والے اور زیادہ غیض و غضب کی آگ میں جلتے چلے جائیں گے۔پس چودہ سو سال پہلے جو عظیم الشان پیشگوئی قرآن کریم میں کی گئی تھی آج آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس کو پورا ہوتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔اس لئے اس پر اور بھی خوش ہوں۔اس قسم کے حکم ناموں نے ثابت کر دیا ہے کہ سچا تھا وہ قرآن جس نے یہ پیشگوئی کی تھی اور سچا تھاوہ رسول جس پر یہ کلام الہی نازل ہوا اور سچا تھا وہ خدا اور عالم الغیب تھا وہ جانتا تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔وہ جانتا تھا کہ ایسے بھی دن آئیں گے کہ بعض لوگوں کی خوشیاں بعض دوسرے لوگوں کے لئے عذاب بن جائیں گی۔پس یہ حکم نامہ جو ہے یہ ہمیں مغموم کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہماری خوشیوں میں اضافہ کرنے کے لئے ایک دستاویزی ثبوت کے طور پر ہمارے ہاتھ میں آیا ہے۔چنانچہ آگے جا کر لکھتے ہیں۔یہ دیکھو احمدی کیا ظلم کر رہے ہیں۔پچھلے سوسالوں کے کارناموں پر خوش ہو رہے ہیں حالانکہ