خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 188 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 188

خطبات طاہر جلد ۸ 188 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء ہونے والا ہے لیکن یہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ اگر آپ احسان مند رہیں گے تو خدا کے فضلوں کے ساتھ آپ کے احسان مندی کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔وہ فضل آپ سے سینکڑوں ہزاروں گنا تیز رفتاری کے ساتھ آگے آگے بھاگیں گے اور آپ کا احاطہ کر لیں گے اور آپ میں استطاعت نہیں ہو گی کہ اُن فضلوں کا احاطہ کر سکیں۔پس اس اگلی صدی کا پہلا پیغام ساری جماعت احمدیہ کے نام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کا شمار کرنے کی کوشش کریں اور خدا تعالیٰ کے احسانات میں ڈوبنے کی کوشش کریں۔آپ کے سارے مسائل احسان مندی کے ذریعے سے حل ہو سکتے ہیں۔ساری مشکلات جذ بہ احسان مندی کے ساتھ دور ہو سکتی ہیں لیکن احسان مندی حقیقی ہونی چاہئے محض زبانی نہیں ہونی چاہئے۔عادت ڈالیں اپنی فطرت ثانیہ بنالیں کہ خدا تعالیٰ کے پیار اور محبت کا ذکر کر کے سوچوں میں ڈوب جایا کریں اور سوچا کریں کہ یہ بھی خدا کا احسان ہوا، وہ بھی خدا کا احسان ہوا۔آج جو ہم اس وقت زندگی کی سانس لے رہے ہیں اور ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوئے ہیں یہ بھی تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور بے شمار احسانات کا مجموعہ ہے۔اس ضمن میں میں چند ایک چھوٹی چھوٹی اور باتیں بھی آپ کو بتاتا ہوں وہ کوئی سنجیدہ مضامین تو نہیں لیکن چونکہ پہلے کی بات شروع ہوئی ہے اس لئے آج کے خطبے میں بعض پہلی باتیں میں آپ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ جو اس طرح قطرہ قطرہ کے طور پر شروع ہوئی ہیں۔آج جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارا یہ پہلا خطبہ ہے۔میرا یہ پہلا خطبہ ہے اگلی صدی کا جو میں آپ کے سامنے پڑھ رہا ہوں۔جہاں تک خطبہ نکاح کا تعلق ہے اس صدی کا پہلا خطبہ نکاح مکرم ڈاکٹر عبدالحمید صاحب مرحوم کی بچی نیرہ باہری حمید کا پڑھا گیا۔باہری حمید ہالینڈ کی ایک مخلص احمدی خاتون ہیں جن کا نکاح ثانی ڈاکٹر عبدالحمید صاحب مرحوم سے ہوا تھا۔وہ عبدالباقی ارشد صاحب کے والد تھے۔انہوں نے مجھے ایک خط لکھا کہ میری بیٹی کا نکاح ہونا ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ اگلی صدی کا پہلا نکاح یہ ہو۔چنانچہ وہ اس پہلو سے مجھے ان کی بات بہت پسند آئی۔واقعی یہ ایک تاریخی سعادت ہے کہ اگلی صدی کا پہلا خطبہ نکاح جو خلیفہ وقت پڑھے وہ جس کا بھی ہو جماعت میں ہمیشہ ایک خاص اعزاز کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔نکاح کے ساتھ اب میں دوسرا پہلو بیان کرتا ہوں جنازے کا۔اس صدی کا پہلا جنازہ مکرم عبد السلام خان صاحب مرحوم کا پڑھا گیا جو آج ہی ایک بجے