خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 184

خطبات طاہر جلد ۸ 184 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء بارش ہو رہی ہو تب بھی انسان کے شکر کی زبان سوکھی رہتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کی زبان وہ زبان تھی کہ جب آسمان سے بارش کا پہلا قطرہ گرا کرتا تھا تو آپ زبان باہر نکال کر اپنی زبان پر اس قطرے کو لیا کرتے تھے۔ظاہری لحاظ سے وہ زبان تر ہوتی تھی لیکن دراصل اس میں ہمیں ایک پیغام ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کے ہر قطرے سے ہماری زبانیں تر رہنی چاہئیں اور ہمارا دل اُن احسانات سے سیراب رہنا چاہئے۔پس یہ صدی ہمیں احسانات منانے کی صدی بنانی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جو میرے احسانات کا شکر کرتا ہے میں اُسے بڑھا تا چلا جا تا ہوں ،اس پر مزید فضل کرتا چلا جاتا ہوں اس لئے اگر آج آپ یہ فیصلہ کریں کہ اس صدی کو احسانات منانے کی صدی بنا ئیں گے تو یہ تو نہیں ہو سکے گا کہ ایک صدی کے اندر آپ خدا تعالیٰ کے احسانات گن سکیں یا اُن کا شکر یہ ادا کر سکیں۔ہزاروں صدیوں کے احسانات کا بوجھ آپ کی آئندہ نسلوں پر پڑ جائے گا اور وہ بھی اگر احسان مند رہیں گی تو ان پر بھی خدا تعالیٰ کے احسانات کی بے انتہا بارشیں برستی رہیں گی۔کتنا آسان طریق ہے خدا کے فضلوں کو جذب کرنے کا، کتنا مؤثر طریق ہے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو اپنے پیا سے دلوں کی طرف کھینچنے کا کہ اس کے احسانات کا تصور باندھیں اور اس تصور کے ساتھ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا شروع کریں۔تصور باندھنے کا احسان کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اور اس مضمون کو میں آپ پر خوب ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔بہت سی زبانیں آپ نے دیکھی ہوں گی جو ہر وقت خدا تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں حرکت کر رہی ہوتی ہیں اور بہت سے ایسے ہاتھ بھی دیکھے ہوں گے جن میں تسبیجیں تھامی ہوں گی اور زبان کی ہر حرکت کے ساتھ تسبیح کے دانے بھی ہر وقت گردش میں رہتے ہیں لیکن کیا واقعہ اس زبان کی حرکت اور دانوں کی گردش کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احسانات بھی دلوں میں اسی طرح گردش کرتے ہیں؟ یہ ہے وہ سوال جس کے جواب پانے کے نتیجے میں ہر شخص کی تسبیح کی ایک حیثیت مقرر کی جاتی ہے اور خدا کی نظر میں صرف اسی تسبیح کی حیثیت ہے جو دل کے پردوں پر گردش کر رہی ہو۔پس چی تسبیح احسانات کے عرفان کے نتیجے میں عطا ہوا کرتی ہے اور اس عرفان کو حاصل کرنے کے لئے کسی لمبی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہے ایک اندرونی بیداری کی ضرورت ہے۔اندرونی طور پر شعور کو جگانے کی ضرورت ہے۔صبح جس حال میں آنحضرت آنکھیں کھولا کرتے تھے۔آنکھ کھلنے کے ساتھ ہی خدا کے شکر کا اظہار شروع ہو جاتا تھا اور پہلی بات یہ کرتے تھے