خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد ۸ 183 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء آئے ، ایسے کڑے وقت آئے کہ خطرہ تھا کہ بعض علاقوں سے جماعت کی صف لپیٹ دی جائے گی مگر خدا تعالیٰ کی غیر معمولی قدرت نے حیرت انگیز جلوے دکھائے۔پس ان سب امور کی طرف جب ہم نگاہ دوڑاتے ہیں تو شکر کے جتنے بھی جذبات دل میں پیدا ہوتے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ پیاس نہیں بجھی۔بعض دفعہ اس کیفیت میں جب خدا تعالیٰ کے احسانات کا تصور باندھتا ہوں اور وہ راہیں تلاش کرتا ہوں جن پر سجدے کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا جائے۔تو اس مضمون کو اتنا پھیلا ہوا دیکھتا ہوں، اپنی طاقت سے اتنابڑا ہوا پاتا ہوں کہ کوئی پیش نہیں جاتی۔بے اختیار اس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اے محسن! تو اتنا احسان کرنے والا ہے کہ کوئی دنیا کا ممنون احسان خواہ ایک ہو خواہ قومیں ہوں ، خواہ ایک ملک کے باشندے ہوں یا تمام عالم کے بسنے والے ہوں دن رات بھی اگر وہ تیرے احسانات کا شکریہ ادا کریں تو اُن کے بس میں نہیں ہے۔اس لئے ہم سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرما۔ہمارے دل کی بے قرار تمناؤں پر نظر کر۔ہم چاہتے ہیں کہ تیرے احسانات کا شکر یہ ادا کریں مگر ہم میں طاقت نہیں ہے۔یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں اس میں قطعاً لفاظی کا کوئی شائبہ بھی نہیں۔آپ میں سے ہر ایک کو میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ آج اپنی زندگی پر اگر مڑ کر نگاہ ڈالیں بچپن سے لے کر آج تک کے واقعات پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنے بھیا نک موڑ آپ کی زندگیوں پر ایسے آئے تھے اُن میں سے ہر موڑ آپ کے لئے ہلاکت کا پیغام لاسکتا تھا اور آپ کو یہ توفیق نہ ملتی کہ موڑ مڑ کر اپنے سفر کا باقی حصہ طے کر سکیں۔زندگی کو بھی مختلف خطرات پیش آئے ، ایمان کو بھی مختلف خطرات پیش آئے۔دنیا کی دولتوں اور حیثیتوں کو بھی خطرات پیش آئے اور خدا تعالیٰ نے بسا اوقات ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ نہیں، دس دفعہ نہیں، ہمیں دفعہ نہیں بلا شبہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم میں ہر ایک کی زندگی میں ہزار ہا مرتبہ ایسے احسانات کے سلوک فرمائے کہ اُن میں سے ایک ایک احسان اس لائق ہے کہ اُس کے شکریے میں زندگیاں گزاری جائیں۔یہ مضمون ہر انسان پر کھل سکتا ہے اگر وہ احسان شناسی کی نظر پیدا کرے اور دنیا کا کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے زیرا احسان نہ ہو۔جماعت احمدیہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ نظارے بہت زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔پس اس صدی کو شکر کی صدی بنانا ہے اور خدا تعالیٰ کے احسانات کو یادرکھنے اور احسانات کو پہچاننے کی صدی بنانا ہے۔ورنہ غفلت کی آنکھ سے اگر آپ دیکھیں تو احسانات کی خواہ