خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد ۸ 181 خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۸۹ء تھی۔پس دیکھیں واقعات ایک ہی سے ہیں اور زاویے بدلنے سے اور نقطہ نگاہ بدلنے سے کس طرح مناظر یکدفعہ تبدیل ہو جاتے ہیں۔پس ایک پہلو سے تو ہم یقیناً بلندی کی طرف جائیں گے اور وہ پہلو ہے احمدیت اور اسلام کا غلبہ اور اس کی ترقی اور دنیاوی لحاظ سے، ادبی لحاظ سے جماعت کا ہر پہلو سے وسعت اختیار کرنا لیکن میں آپ کو دوسرے پہلو کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔تعداد میں آپ خواہ لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ ہو جائیں اگر رفعتوں کا حقیقی تصور آپ نے تبدیل ہونے دیا، اگر تعداد ہی کو معیار ترقی سمجھ لیا تو پھر آپ کی نجات کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔جہاں رفعتوں کا تصور باندھیں وہاں آج سے سو سال پہلے ہی نہیں بلکہ چودہ سو سال پہلے نگاہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس صدی کا آغاز کیا اُس کی بلندی کی طرف بھی دیکھیں اور آج سے چودہ سو برس پہلے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جس بلندی سے بنی نوع انسان کو مخاطب فرمایا اُس کی طرف بھی نگاہ کریں اور وہ رفعتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔وہ رفعتیں تعداد سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں، دنیا وی وجاہتوں سے اُن کا کوئی بھی رشتہ نہیں، جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ایک تھے اُس وقت ساری کائنات کا خلاصہ آپ تھے۔آپ ہی تھے جن کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لولاك لما خلقت الافلاك (روح المعانی جلد اول صفحہ ۷۰) اے میرے پیارے بندے! اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں ساری کائنات کو پیدا نہ کرتا۔پس اصل رفعتیں وہی ہیں جو روحانی رفعتیں ہیں، جو خدا کی نگاہ میں رفعتیں کہلاتی ہیں اور اُن کا دنیاوی و جاہتوں اور عددی اکثریت سے کوئی بھی تعلق نہیں۔پس آپ آج اس صدی کے سر پر کھڑے ہیں اور آج آپ وہ لوگ جو میرے ساتھ اس خطبے میں شریک ہیں اس صدی کا پہلا خطبہ سُن رہے ہیں اور پہلا جمعہ پڑھ رہے ہیں۔اس اولیت کو روحانی اولیت میں تبدیل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں۔زمانے کے لحاظ سے آپ کو ایک اولیت عطا کی گئی ہے۔روحانی اقدار کے لحاظ سے علمی اقدار کے لحاظ سے ، مذہبی اقدار کے لحاظ سے، تقویٰ کے لحاظ سے، خدا سے تعلق اور محبت اور پیار کے لحاظ سے اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کے لحاظ سے اول بننے کی کوشش کریں کیونکہ آپ کو خدا نے صدی کے سر پر کھڑا کر کے آج تمام دنیا میں اول قرار دے دیا ہے۔پس اُن تمام خوبیوں میں اول ٹھہریں جو خدا کی نگاہ میں اول قرار دئیے جانے