خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد ۸ 176 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء اور بے حقیقت ہیں۔منکسر بننے کے لئے بھی عرفان کی ضرورت ہے اور اگر آپ اپنے پرانے بزرگوں کو اُن عظمتوں کے وقت یا درکھیں گے جو آپ کو خدا کے فضل عطا کرتے ہیں تو آپ کو حقیقی انکساری کا ایک عرفان نصیب ہو گا تب آپ جان لیں گے کہ آپ اپنی ذات میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔وہ لوگ جو سب سے پہلے آئے جنہوں نے نیکی کے اطوار سکھائے ، جنہوں نے تمہیں قربانیوں کے اسلوب بتائے ، جنہوں نے وہ ادا ئیں سکھائیں جو خدا کی نظر کو محبوب ہوا کرتی ہیں وہ لوگ ہیں جو اس صدی میں داخل ہوتے وقت سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم اُن کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اُن کے ذکر کو بھی بلند کریں جس طرح خدا اور رسول کے ذکر کو بلند کرتے ہیں۔اس ضمن میں میں نے اس سے پہلے اپنے افریقہ کے دورے میں ایک ہدایت دی تھی معلوم نہیں کس حد تک اُس پر عمل ہوا کہ یہ ایک ایسا اچھا خلق ہے اپنے بزرگوں کی نیکیوں کو یاد رکھنا اور اُن کے احسانات کو یا درکھ کے اُن کے لئے دعائیں کرنا۔اس خلق کو ہمیں صرف اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ہر گھر میں رائج کرنا چاہئے۔چنانچہ غالباً کینیا کی بات ہے وہاں میں نے ایک کمیٹی بٹھائی کہ وہ سارے بزرگ جو پہلے کینیا پہنچے تھے جنہوں نے آکر یہاں قربانیاں دیں جماعت کی بنیادیں استوار کیں اُن کے حالات اکٹھے کرو اُن حالات کو زندہ رکھنا تمہارا فرض ہے ورنہ تم زندہ نہیں رہ سکو گے اور مجھے تعجب ہوا اور بڑا دکھ امیز تعجب ہوا جب میں نے نوجوان نسلوں سے ان کے آباؤ اجداد کے متعلق پوچھا تو پتالگا کہ اکثر کا کچھ پتا نہیں تھا۔نام جانتے تھے یہ پتا تھا کہ فلاں زمانے میں کوئی صاحب آئے تھے ، بعضوں کو یہ بھی پتا تھا کہ اُس کی قبر کہاں ہے، وہ دادا جو کسی وقت آیا تھا یا پڑ دادا جو کسی وقت آیا تھا وہ کہاں چلا گیا بعضوں کو تو یہاں تک علم نہیں تھا چنانچہ میں نے اُن کو بتایا کہ یہ تو بہت عظیم الشان قربانیاں کرنے والے انسان تھے۔انہوں نے ہی وہ بنیا دیں قائم کی ہیں جن پر آج تم قائم ہو کر اپنے آپ کو ایک بلند عمارت کے طور پر دیکھ رہے ہو۔چنانچہ اُس کمیٹی نے بڑا اچھا کام کیا اور ایک عرصے تک میرے ساتھ اُن کا رابطہ رہا اور بعض ایسے بزرگوں کے حالات اکٹھے کئے جو نظر سے اوجھل ہو چکے تھے۔اس لئے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور اُس تاریخ کو اُن کی بڑائی کے لئے شائع کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے آپ کو بڑائی عطا کرنے کے لئے۔اُن کی مثالوں کو زندہ کرنے کے لئے ، اُن کے واقعات کو محفوظ کریں اور پھر اپنی نسلوں کو بتایا کریں کہ