خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 177
خطبات طاہر جلد ۸ 177 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے آباؤ اجداد تھے۔کن حالات میں کس طرح وہ لوگ خدمت دین کیا کرتے تھے، کس طرح وہ چلا کرتے تھے، کس طرح بیٹھا کرتے تھے، اوڑھنا بچھونا کیا تھا، اُن کے انداز کیا تھے؟ مجھے یاد ہے ایک دفعہ سیالکوٹ دورے پر گیا انصار اللہ کا صدر تھا اُن دنوں میرے ساتھ مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب جو اُس زمانے میں انصار اللہ سیالکوٹ کے ناظم تھے وہ بھی ہمسفر تھے یہ مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب کے بھائی تھے۔تو حسن اتفاق سے ہمارا سفر ان سڑکوں پر ہوا جن سڑکوں پر کسی زمانے میں انہوں نے بچے کے طور پر اپنے والد کو چلتے دیکھا تھا اور نئے احمدیوں کے ساتھ جو قافلہ در قافلہ قادیان کو جایا کرتے تھے۔عجیب روح پر ور وہ نظارہ تھا ہمارا غالبا تانگہ تھا یا موٹر تھی جو بھی تھا جب اُن سڑکوں سے گزر رہا تھا تو ایک ایک یا داُن کے ذہن میں تازہ ہوتی چلی جارہی تھی۔وہ تو بتایا کرتے تھے کہ اگر چہ استطاعت تو تھی لیکن ہمارے ابا جان مرحوم اس بات کی زیادہ لذت محسوس کیا کرتے تھے کہ پیدل قادیان جائیں۔چنانچہ گاؤں گاؤں سے چھوٹے چھوٹے قافلے اُس قافلے کے ساتھ ملتے چلے جاتے تھے اور جلوس بنتا چلا جاتا تھا اور کئی لوگ ساتھ پنجابی کے گیت گاتے ہوئے، صدا ئیں الاپتے ہوئے اُس قافلے کی رونق بڑھا دیا کرتے تھے اور نئی روحانی لذتیں اس کو عطا کیا کرتے تھے۔کہتے ہیں میں بھی کئی دفعہ انگلی پکڑ کے ساتھ اس طرح چل رہا ہوتا تھا میرے باقی بھائی بھی۔جتنا مزہ اُس زمانے میں اُن جلسوں کا اور قادیان اس طرح پیدل جلوس کی صورت میں جانے کا آیا ویسا اُن کو پھر ساری عمر کبھی مزہ نہیں آیا۔مزے تو آئے کئی کئی رنگ کے مزے آئے لیکن وہ بات اپنے رنگ میں ایک الگ بات تھی۔تو اُن بزرگوں کی باتیں جس طرح انہوں نے پیار سے کیں اس سے میرا دل بھی بے ساختہ دعاؤں سے بھر گیا اور میں نے سوچا کہ کاش سارے خاندان دنیا کے اسی طرح اپنے بزرگوں کو یا درکھیں اور اپنے بزرگوں کے تذکرے اپنے خاندان میں اپنے بچوں سے کیا کریں۔بعض اُن میں سے ایسے بھی ہوں گے جن کو یہ استطاعت ہوگی کہ وہ ان واقعات کو چھپوا دیں کتابی صورت میں لیکن ان کو میں ایک بات کی تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ بسا اوقات ایسے واقعات اکٹھے کرنے والے احتیاط سے کام نہیں لیتے۔بعض ایسی روایات بیان کر دیتے ہیں اپنی یادداشت کی غلطی کی وجہ سے جو بعض دوسری روایات سے ٹکرا جاتی ہیں۔بعض ایسی باتیں بیان کر دیتے ہیں جو کم عمری کی وجہ سے نا کبھی کے نتیجے میں وہ صحیح پہچان نہیں سکے۔واقعہ کسی اور رنگ میں ہوا بات کسی اور رنگ میں