خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 175
خطبات طاہر جلد ۸ 175 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء جہاں میں نے گھونگھوں کی مثال دے کر آپ کو یہ یاد دلایا اور ایک نظارہ قانون قدرت سے دکھایا کہ مرنے والے حقیر لوگ بھی قربانیاں دینے والے بالکل بے حقیقت ذرات بھی جب استقلال کے ساتھ مستقل جدو جہد کے ساتھ قربانیاں پیش کرتے چلے جاتے ہیں تو اُن قربانیوں کو ضرور سر بلندی عطا کی جاتی ہے۔عظیم سمندروں پر اُن کو فتحیاب کیا جاتا ہے وہاں اس خطبے کو ختم کرنے سے پہلے میں اس امر کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جزیرے کا وہ حصہ جو سمندر سے باہر سر نکالتا ہے اگر اپنی بلندی پر مغرور ہو جائے اور اپنی بلندی کا مقابلہ اُن حقیر ذرات کی پستی سے کرنے لگے جو اُس کو سمندر کی تہہ میں ارب ہا ارب ٹن وزن کے نیچے دبے ہوئے دکھائی دیتے ہوں گے تو کیسی جہالت کی بات ہوگی۔وہ پہلی نسل گھونگھوں کی جو سمندر کی تہہ میں بغیر کسی مقصد کے بظاہر بغیر کسی نظر آنے والے مقصد کے اپنی لاشیں بچھا دیتی ہیں وہ اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ اس کی آئندہ نسلیں ضر ور فتح یاب ہوں گی اور سب سے بڑی فتح پانے میں نسل وہی نسل ہے جو سب سے پہلے ترقی کے سلیقے سکھاتی ہے۔قربانی کے رستوں سے گزارنے کے آداب بتاتی ہے۔اس کے او پر جتنی بھی وہ عمارت بلند سے بلند تر ہوتی چلی جائے وہ ساری ہمیشہ ہمیش کے لئے اُس ادنی پست پہلی سطح کی ممنونِ احسان رہتی ہے۔پس اپنے اُن بزرگوں کے احسانات کو نہ بھولیں خواہ وہ آج سے سو سال پہلے گزر گئے یا چند دن پہلے گزرے یا چند لمحے پہلے گزرے، خواہ اس صدی میں گزرے یا چودہ سو سال پہلے گزرے۔وہ سارے قربانی کے گھونگھے جو خدا کی راہ میں اپنی جانیں بچھاتے رہے جن پر اسلام کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہوئیں اور یہ عظیم الشان جزیرے اُبھرے وہ لوگ ہماری خاص دعاؤں کے حقدار ہیں۔ہم محتاج ہیں کہ اُن کے لئے دعائیں کریں اور وہ حقدار ہیں کہ ہم اُن کے لئے دعائیں کریں اور اُن کے تصور سے ہم وہ عرفان حاصل کریں جو انکساری کے لئے ضروری ہوا کرتا ہے۔انکساری محض زبان سے حاصل نہیں ہوا کرتی یا درکھیں بڑے بڑے ایسے متکبر لوگ ہیں جو اپنی شان بتانے کے لئے کہا کرتے ہیں ہم تو کوئی چیز بھی نہیں۔بڑے بڑے ایسے ساہوکار اور امیر اور کارخانے دار ہیں بعض جو اپنی شان اس طرح بناتے ہیں کہ مجلس میں بیٹھ کر کہتے ہیں ہم تو ایک مزدور ہیں ہماری زندگی کا سارا وقت روزانه مزدوری کرتے گزرا۔تمہیں کیا پتا ہم کیا لوگ ہیں۔وہ سمجھتے ہیں اسی میں شان ہے۔ایک کروڑ پتی مزدور ہے جو لاکھوں مزدوروں پر حکومت کر رہا ہے ایسی انکسار کی باتیں جھوٹی اور مصنوعی