خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 172

خطبات طاہر جلد ۸ 172 خطبہ جمعہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۸۹ء حوصلے پیدا ہوتے ہیں، یقین پیدا ہوتا ہے، ہمارے عزائم کے سر بلند ہوتے ہیں وہاں انکساری کے سر جھکتے بھی ہیں وہاں بجز کے نئے سبق بھی ہم سیکھتے ہیں۔وہاں ہمیں یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ ہم اپنی طاقت سے اپنی حکمتوں اور اپنی ہوشیاریوں کے بل بوتے پر دنیا میں کوئی کام سرانجام نہیں دے سکیں گے۔يَنْسِفَهَارَتي نَسْفًا اگر ہمارے مقابل پر عظیم طاقتوں کو کوئی طاقت شکست دے گی تو ہمارے رب کی طاقت ہے اور ہماری اپنی طاقت نہیں ہے۔پس اگر اس پیغام کو تم نے بھلا دیا تو کوئی پہاڑ تمہارے لئے سر نہیں جھکائے گا۔کسی پہاڑ کو فتح کرنے کی تم مقدرت نہیں رکھو گے اس لئے اس صدی سے اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنے سر جھکا کر نکلو اور اگلی صدی میں اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنے سر جھکا کر داخل ہو۔بجز و انکسار کے ساتھ داخل ہو ، دعائیں کرتے ہوئے داخل ہو، خوشیوں کے گیت ضرور گا ؤ لیکن اس کامل یقین کے ساتھ کہ ہمارا ایک خدا ہے جو ہماری پشت پناہی کے لئے کھڑا ہے اور ہم میں کوئی بھی طاقت نہیں جب تک اُس خدا کی نصرت ہماری مدد کو نہ آئے ہم ایک انگلی ہلانے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، ایک قدم بھی آگے بڑھانے کی طاقت نہیں رکھتے ، ہمارا سانس لینا بھی اپنی طاقت میں نہیں ہے۔یہ سب کچھ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت کا اذن جاری ہو۔اگر اس عجز کے ساتھ تم آگے بڑھو گے تو خدا تعالیٰ کی تقدیر تمہیں ایسے نظارے بھی دکھائے گی کہ نہایت عاجز اور حقیر چیزیں دنیا میں عجیب عظمتیں پاگئیں۔ایک نظارہ تو تم نے یہ دیکھا کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کیا گیا اور ذروں میں تبدیل کر دیا گیا۔وہی خدا کی تقدیر جو یہ عظیم الشان کام کر کے دکھاتی ہے وہ ایسے نظارے بھی تو دکھاتی ہے کہ ریزوں کے پہاڑ بنادے گی اور ذروں کو بلندیاں عطا کی گئیں اور عظمتیں بخشی گئیں۔پس جہاں تک غیروں کے محمد رسول کریم ﷺ کے دشمنوں کے مٹنے کا تعلق ہے یا درکھو کہ خدا اُن کو مٹائے گا تم سے نہیں مٹائے جاسکتے۔جہاں تک تمہاراعظمتیں حاصل کرنے کا تعلق ہے یاد رکھو کہ خدا کے ہی کے ہاتھ میں عظمتیں ہیں لیکن وہ صرف عاجز بندوں کو یہ عظمتیں عطا کیا کرتا ہے اور ایسا ہونا کہ ذرے پہاڑ بن جائیں کوئی انہونی بات نہیں ہے۔آپ جانتے ہیں سمندر میں گھونگھوں کی کیا حیثیت ہوا کرتی ہے۔بڑے بڑے عظیم الشان سمندر ہیں جن کے مقابل پر سمندر کے گھونگھے کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔چھوٹی چھوٹی زندگی کی قسمیں ہیں جو بالکل حقیر ہیں دنیا کی زندگی کی دوسری