خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 170 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 170

خطبات طاہر جلد ۸ 170 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء اور تمسخر کا سلوک اُن کے ساتھ کیا لیکن خدا تعالیٰ نے اس وقت دنیا کی کیا کیفیت تھی اور وہ کیا کیا سوال حضور ا کرم سے کیا کرتے تھے اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ان کے مقابل پر کیا کیا حالت تھی اور خدا تعالیٰ سے کس طرح وہ روز عظیم الشان خوشخبریاں سنا کرتے تھے اس مضمون کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔فرمایا وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ اے محمد ! تجھ سے وہ پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ایک عرب کے پہاڑ کی بات نہیں رہی تو تو یہ دعوی کر رہا ہے کہ تمام دنیا کے پہاڑوں کو فتح کرے گا اس لئے اب عربوں کا سوال ایک پہاڑ کے متعلق نہیں رہا وہ تجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا اس دنیا کے تمام عظیم پہاڑوں کی روکوں کو تم چکنا چور کر دو گے؟ کیا ان تمام مشکلات پر غالب آ جاؤ گے؟ بڑی عظیم الشان سلطنتیں تھیں جو عرب کے دائیں بھی کھڑی تھیں اور بائیں بھی کھڑی تھیں۔ایک طرف سلطنت روم کا پہاڑ تھا۔یعنی چوٹی در چوٹی سلسلہ وار ہزاروں میل تک پھیلا پڑا تھا اور دوسری طرف کسری کی حکومت کا پہاڑ تھا جو چوٹی در چوٹی سلسلہ وار ہزاروں میل تک پھیلا پڑا تھا۔پھر اس کے بعد دنیا کی اور عظیم الشان طاقتیں تھیں چین کی سلطنت بھی تھی جس کے قصے عرب تک پہنچا کرتے تھے لیکن جن سے بہت کم لوگوں کو ذاتی شناسائی تھی۔تو عربوں نے جب آنحضرت ﷺ کا یہ دعویٰ سنا تو اُن کی توجہ یقیناً ان تمام طاقتوں کی طرف منتقل ہوئی ہوگی اور اُنہوں نے سوچا ہوگا کہ یہ کیسے دعوے کر رہا ہے؟ ہمارے سامنے تو بالکل کمزور اور بے بس اور طاقت سے عاری دکھائی دے رہا ہے اور کہتا یہ ہے کہ میں تمام دنیا کے پہاڑوں کو فتح کرلوں گا۔تو اس منظر کو ایک کلمے میں محفوظ کرتے ہوئے اس کی تصویر کشی قرآن کریم اس طرح فرماتا ہے وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ اے محمد ! تجھ سے وہ بہت سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفَا ان سے کہہ دو کہ ہاں مجھے طاقت نہیں ہے کہ میں ان پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر سکوں لیکن يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا میرا خدا، میرا رب ان پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا اور انہیں ایک چٹیل میدان بنادے گا۔لَا تَرى فِيْهَا عِوَجًا وَلَا اَهْنا ان پہاڑوں میں پھر نہ کوئی موڑ تم دیکھو گے، نہ کوئی کبھی نظر آئے گی اور نہ کوئی بلندی دکھائی دے گی۔یہ تمام کے تمام پہاڑ ایک چٹیل میدان کی طرح زمین کے ساتھ ہموار اور برابر کر دیئے جائیں گے۔يَوْمَذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَاعِوَجَ لَہ ہاں یہ دن ہو گا جب وہ اس داعی محمد مصطفیٰ" کی غلامی کے لئے تیار ہو چکے