خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 169
خطبات طاہر جلد ۸ 169 خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۸۹ء راہیں مسدود کر دی جائیں۔ایسے حالات میں بعض کمزور دل یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہماری یہ خوش فہمی ہے ہم بڑے بڑے دعوے کر کے اپنے دل بڑھاتے ہیں لیکن دل بڑھانے کے ساتھ ضروری تو نہیں کہ ہماری قد و قامت بھی بڑھ جائے اور بلند دعوے کرنے سے یہ نتیجہ تو نہیں نکلتا کہ ہم میں عظیم الشان طاقت بھی پیدا ہو جائے۔ایک پہلو سے اُن کی یہ بات درست ہے اور یقیناً درست ہے کہ نا تو دل بڑھانے سے قد اونچے ہو جایا کرتے ہیں نہ قوت کی باتیں کرنے سے جسم میں توانائی پیدا ہو جاتی ہے لیکن جس دنیا میں ہم یہ دعاوی کر رہے ہیں وہ دنیا عام دنیا سے مختلف دنیا ہے وہ دنیا مذہب کی دنیا ہے اور وہ دنیا ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے بالکل دنیا سے الگ ایک تاریخ پیش کی ہے اور ایسے قوانین ہمارے سامنے کھول کر رکھے ہیں جن کا اطلاق مذہب کی دنیا پر ہوتا ہے اور یہ قوانین صرف مذہبی دنیا سے تعلق نہیں رکھتے۔جب دوسری دنیا کے قوانین ان قوانین سے ٹکراتے ہیں تو ان قوانین کو بالا دستی عطا کی جاتی ہے اور ان سے ٹکرا کر وہ دوسرے قوانین پاش پاش کر دیئے جاتے ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے بار بار کھول کے رکھا اور ہمارے بلند بانگ دعاوی دیوانوں کی برہنہیں ہیں بلکہ ایسے فرزانوں کی باتیں ہیں جن کے پیچھے خدا کا کلام ہے اُن کی پشت پناہی کر رہا ہے اور جن کے پیچھے انبیاء کی تمام تاریخ کھڑی ہے اور انہیں جرات اور حوصلے دلا رہی ہے کہ آگے بڑھو دنیا کی کوئی طاقت تمہارا بال بیکا نہیں کر سکتی۔تمہارے مقدر میں آگے بڑھنا ہے، آگے بڑھنا ہے، آگے بڑھنا ہے۔اس لئے بے خوف خدا پر توکل کرتے ہوئے، دعائیں کرتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے جاؤ۔قرآن کریم کی جس آیت کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ علیہ نے آج سے تقریباً چودہ سوسال پہلے جب دعویٰ کیا کہ میں تمہاری نظر میں ایک اُمی عام عرب کا باشندہ ہوں اور تم جب مجھ سے یہ باتیں سنتے ہو کہ میں عرب کو فتح کروں گا تو تم بڑی حقارت سے دیکھتے ہو اور آپس میں جب مجلسیں لگاتے ہو تو مجھے دیوانہ کہتے ہو۔کہتے ہو کیسی عجیب عجیب باتیں کرتا ہے لیکن تم عرب کی فتح پر متعجب ہور ہے ہو مجھے خدا نے تمام دنیا کی فتح کے وعدے دیئے ہیں اور تمام عالم کو میری صداقت کے اقدام کے نیچے بچھا دیا جائے گا۔یہ دعویٰ تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی زبان سے دنیا نے سنا اور بھی زیادہ تعجب اور استہزاء