خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 162 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 162

خطبات طاہر جلد ۸ 162 خطبه جمعه ۱۰ / مارچ ۱۹۸۹ء قسم کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔یہ جو بچنے کی کوشش کرتا رہوں گا ایک بہت ہی حکیمانہ کلام ہے۔وہ اس لئے کہ اگر یہ عہد ہوتا کہ میں ہر قسم کے گناہوں سے بچوں گا تو یہ ایک ایسا عہد ہوتا جسے شاید قبول کرنے کی کسی میں بھی ہمت نہ ہوتی کیونکہ کون کہہ سکتا ہے کہ میں ہر قسم کے گنا ہوں سے ہمیشہ بچ جاؤں گا اور اگر ایسا کوئی عہد رکھا ہی نہ جاتا تو پھر گویا سب کو کھلی چھٹی ہو جاتی کہ پچھلے گناہوں کی بخششیں مانگنا ہمارا کام رہ گیا ہے گناہ کرتے چلے جائیں بخشش مانگتے چلے جائیں۔یعنی وہی بات ہوتی کہ رات پی زم زم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھبے جامہ احرام کے (دیوان غالب صفحه : ۳۸۱) جام احرام کے دھبے دھوتے چلے جائیں اور پھر رات کو مے بھی پیتے چلے جائیں اسی قسم کی ایک زندگی بنتی تو یہ دیکھئے کتنے خوبصورت الفاظ ہیں۔کمزوروں کو حوصلہ دلانے والے اور صاحب عزم لوگوں کو ہمیشہ ان کا عہد سامنے رکھنے والے اور عظیم مقامات جن کی طرف انہوں نے آگے بڑھنا ہے وہ ان کے پیش نظر رکھنے والے ہیں۔یہ عہد کیا ہے کہ میں تمام عمر جب تک میں زندہ رہوں گا گنا ہوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔یہ امر واقعہ ہے کہ اگر گناہوں سے بچنے کی انسان واقعۂ کوشش کرتا رہے تو خدا تعالیٰ ضرور تو فیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ گناہوں سے بچ جائے لیکن بہت سے ایسے گناہ ہیں جن میں انسان گناہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور اس کا بس نہیں چلتا اور اچانک کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو روشنی ملے تو وہ جاگ اٹھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ہاں میں کیا کر رہا ہوں ورنہ بسا اوقات وہ یہی سمجھتا ہے کہ میں گناہوں سے بچنے کی کوشش میں زندگی خرچ کر رہا ہوں۔اس لئے یہ شعور بیدار کرنے کا وقت ہے۔خوب اچھی طرح اپنے حالات پر غور کریں اور دیکھیں کہ کیا واقعی آپ کوشش کر رہے ہیں کہ نہیں کر رہے۔آپ جانتے ہیں کہ ہزار مرتبہ انسان پر ایسے وقت آتے ہیں جب وہ مالی معاملات میں بددیانتی کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اور باشعور طور پر اس کو علم نہیں ہوتا کہ میں یہ کر رہا ہوں اور کئی قسم کی دنیاوی لذتوں کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے جانتا ہے کہ گناہ ہے خواہ چھوٹا گناہ ہے یا بڑا گناہ ہے مگر گناہ ضرور ہے اور اس کے باوجود وہ کوشش کر رہا ہوتا ہے۔غالب نے اپنی