خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد ۸ 160 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء نہیں ہے کہ وہ کامل طور پر پاک وصاف ہو کر پھر خوبیوں کو اختیار کرے تو اُس کو کلیۂ ردفرمادے تبھی قرآن کریم میں واضح طور پر یہ فرمایا گیا کہ بعض خدا کے ایسے بندے بھی ہیں جنہوں نے نیک اعمال کو بداعمال کے ساتھ اکٹھا کیا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے چاہے تو ان کو معاف فرمادے چاہے تو ان کا مواخذہ کرے لیکن بحیثیت مجموعی ان کو رد نہیں کیا جائے گا۔پھر خدا تعالیٰ یہ دیکھے گا کہ کس نے کس بدی کو توفیق پانے کے باوجو د ترک نہیں کیا تھا، کس نے کس نیکی کو تو فیق پانے کے باوجود اختیار نہیں کیا تھا اور یہ مضمون اتنا باریک ہے اور اتنا تہہ بہ تہہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی نظر اس مضمون کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی مگر ہوگا اس قسم کا واقعہ جس قسم کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی جن کے اعمال سئیہ اعمال صالحہ کے ساتھ مل جل گئے ہیں وہ بھی یقیناً خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بخشے جائیں گے اور ان کو بھی اعزاز کے ساتھ جنت کے دروازوں میں قبول کیا جائے گا۔پس یہ جو گیٹ ہمارے سامنے سج رہا ہے یعنی یہ تصوراتی گیٹ یہ ایسا تصوراتی بھی نہیں جیسا کہ ہم اپنے اظہار خیال کے معاملے میں مجبوراً اس کو تصوراتی کہتے ہیں اور کوئی لفظ ہمیں ملتا نہیں مگر ایسا تصوراتی بھی نہیں یقینا یہ ایک ایسا روحانی گیٹ ہے جس میں خدا اور اس کے فرشتے ہمارے منتظر ہیں اور نئی صدی میں داخل ہونے والا یہ قافلہ ایک خاص نظر سے دیکھا جائے گا اور ہم میں سے ہر ایک سے اس کی حیثیت اور اس کی توفیق کے مطابق اعزاز کا سلوک کیا جائے گا۔خدا نہ کرے کہ کچھ ایسے بھی ہوں جو اس دروازے پر رد کر دئیے جائیں۔بظاہر وہ وقت کے لحاظ سے تو آگے گزر جائیں لیکن اس گیٹ میں سے گزرنے کی ان کو اجازت نہ ملے۔ایسا دنیا میں بھی ہوا کرتا ہے کہ وقت کے لحاظ سے جب زمین کے لحاظ سے ایک آدمی آگے گزر جاتا ہے لیکن جو گیٹ مقرر ہے اس سے اس کو نکلنے کی اجازت نہیں ملتی۔کھیلوں میں بھی ایسا ہوتا ہے گول کی جگہ مقرر ہے فٹ بال ہزار مرتبہ دائیں اور بائیں سے آگے نکل جائے اس کے کوئی بھی معنی نہیں۔وہی فٹ بال عزت کا مقام پاتا ہے اور ایک گول کے طور پر لکھا جاتا ہے اس وقت کہ اس فٹ بال کے ذریعے گول ہو گیا جو گیٹوں کے بیچ سے گزرتا ہے۔تو خدا نہ کرے کہ ایسا ہو ہم میں سے بہت سے بدقسمت ایسے بھی ہوں جو وقت کے لحاظ سے تو آگے نکل جائیں لیکن خدا کے فرشتے اس کو یا اُن کو اس گیٹ سے نہ گزرنے دیں جو خاص طور پر روحانی لحاظ سے اس موقع پر سجایا گیا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر ہر احمدی کوشش کرے گا تو یقیناً اس کے ساتھ حسن واحسان