خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 159

خطبات طاہر جلد ۸ 159 خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۸۹ء کیسے عزت افزائی کی جائے گی، کس سے کتنا پیار کا سلوک ہوگا اس کا فیصلہ ہم میں سے ہر ایک کے اپنے ہاتھ میں ہے۔پس جتنے دن باقی رہ گئے ہیں ان دنوں کو دعاؤں کے ساتھ تقویٰ کے ساتھ بسر کرنے کی کوشش کریں اور خوب غور کریں کہ کونسی ایسی بدیاں ہیں جو ابھی تک آپ جھاڑ نہیں سکے، جو ابھی تک بلائیں بن کر آپ کے ساتھ چھٹی ہوئی ہیں اور کون سی ایسی خوبیاں ہیں جو آپ کی پہنچ میں موجود ہونے کے باوجود آپ سے دور ہیں آپ ہاتھ اُن کی طرف بڑھاتے نہیں ہیں۔ہر نیکی ہر انسان کی پہنچ میں ہے ورنہ ان نیکیوں کو ہم پر لازم نہ کیا جاتا اور جب میں کہتا ہوں کہ آپ کی پہنچ میں ہے تو مراد یہ ہے کہ آپ کی تخلیق میں خدا تعالیٰ نے یہ بات ودیعت فرما دی ہے کہ آپ اُن سب نیکیوں کو حاصل کر لیں جن کا قرآن کریم ذکر فرماتا ہے اور جو ہمیں سنت میں ملتی ہیں۔درجہ بدرجہ کس حد تک ہم اس نیکی کو حاصل کر سکیں گے؟ اس کا بھی ہماری خلقت سے ایک تعلق ہے اور اپنی استعدادوں سے باہر نکل کر ہم اپنی نیکیوں کو بڑھا نہیں سکتے لیکن استعدادوں تک پہنچنا ہم پر فرض فرمایا گیا ہے۔ہم اس بات کے مکلف کئے گئے ہیں کہ ہمیشہ کوشش کرتے رہیں کہ نیکیوں کے حصول میں اپنی استعدادوں کی آخری حدیں چھو دیں۔یہی ہماری تکمیل ہے ورنہ خدا کے سوا اور کوئی انسان کبھی کامل بن ہی نہیں سکتا۔پس اس پہلو سے جو تھوڑ اوقت رہ گیا ہے اس میں مزید غور کریں، فکر کریں، اپنی فکر کریں، اپنے اہل وعیال کی فکر کریں، اپنے بچوں کی فکر کریں، اپنے دوستوں کی فکر کریں اور محبت اور پیار کے ساتھ اُن کو بھی سجانے کی کوشش کریں اور ان کی گندگیاں بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔یہ دو مضمون ہیں جن کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے۔یہ ضروری نہیں کہ انسان کلیۂ پاک وصاف ہو جائے اور سب بدیوں کو چھوڑ دے تب ہی اس میں سجاوٹ پیدا ہوگی۔ہمارے ہاں پنجاب میں تو بعض غریب قوموں میں یہ بھی رواج ہے کہ شادی پر جاتی ہیں عورتیں تو پرانی شلوار اور نیا دو پٹہ پہنا ہوا یا ئی قمیض پہنی ہوئی اور اُس پر پھٹی پرانی شلوار یا کوئی اور جسم کا کپڑا ایک نیا ہو گیا ایک پرانا ہو گیا اور اُن کو یہ عجیب نہیں لگتا۔اس لئے عجیب نہیں لگتا کہ وہ جانتی ہیں کہ ہماری توفیق میں اس سے زیادہ ہے نہیں۔اگر ہم میں ایک نئے دوپٹے کی توفیق ہے تو یہی ہماری سجاوٹ ہے۔پس اس توفیق کو مذہب میں بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ بندے سے ایسی زیادتی نہیں کرتا کہ اگر اُس میں کسی خاص لمحے میں یہ توفیق